فضل الرحمان سے اپوزیشن اتحاد کے وفد کی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اسد قیصر نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اپوزیشن اتحاد کے وفد نے ملاقات کی ہے، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر غور کیا گیا۔
مولانا فضل الرحمان سے ملنے والوں میں نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، اسد قیصر، علامہ راجا ناصر عباس اور دیگر شامل تھے۔
اسلام آباد:پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی،پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کی امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات
رہنماوں میں سنیٹر علامہ راجہ ناصر عباس،سابق وفاقی وزیر اسعد محمود،اسلم غوری شریک
ملاقات… pic.
— Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan (@juipakofficial) November 5, 2025
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان نے ہمیں کھانے پر بلایا تھا، یہ ان کی مہربانی ہے۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے کہاکہ ہم مولانا فضل الرحمان کے مشکور ہیں جنہوں نے اپوزیشن لیڈر کے لیے محمود اچکزئی کی حمایت کی۔
انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر کے تقرر میں کیا رکاوٹ ہے، یہ نوٹیفکیشن فی الفور جاری کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی ملاقات میں ستائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بات نہیں ہوئی، یہ معاملہ بعد میں دیکھیں گے، اپوزیشن ایوان میں اکٹھی ہو کر حکمت عملی بنائے گی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں سینیئر سیاستدان فیصل واوڈا نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور ستائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بات چیت کی۔
مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم آئین اور پارلیمنٹ کی روح کے منافی ہے، بیرسٹر گوہر
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان سے ایوان میں نمبرز کے حوالے سے بات نہیں کی، ستائیسویں ترمیم مھجھے منظور ہوتی نظر آ رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئینی ترمیم اپوزیشن اتحاد اسد قیصر مولانا فضل الرحمان وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن اتحاد مولانا فضل الرحمان وی نیوز مولانا فضل الرحمان سے نے کہاکہ
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔