وانا کیڈٹ کالج پر حملہ ناکام ‘ 2خوراج ہلاک ‘ ہلاک محصور دہشت گرد افغانستان میں ہینڈلرز سے رابطے میں آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد+ پشاور (نمائندہ خصوصی‘ اپنے سٹاف رپورٹر سے‘ نوائے وقت رپورٹ‘ نیٹ نیوز) شمالی وزیرستان‘ میران شاہ میں کیڈٹ کالج پر خوارج نے بارود سے بھری گاڑی سے حملہ کردیا جسے سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ 2خوارج ہلاک ہوگئے اور تین محصور ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے 8 اور 9 نومبر کو خیبر پی کے میں دو الگ الگ کارروائیاں کیں جن میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 20 دہشت گرد مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آٹھ بھارتی سپانسرڈ خوارج مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے درہ آدم خیل میں دوسرا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی سپانسرڈ مزید 12 خوارج مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز کا علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی ممکنہ ہندوستانی سپانسرڈ خارجی کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وژن ’’عزم استحکام‘‘ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے۔ صدر‘ وزیراعظم شہباز شریف‘ محسن نقوی نے سکیورٹی فورسز کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی حفاظت کی خاطر سکیورٹی فورسز سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہیں۔ پوری قوم سکیورٹی فورسز کو سلام پیش کرتی ہے۔ ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔ صدر اور وزیراعظم نے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ محسن نقوی‘ نیئر حسین بخاری اور شازیہ مری نے وانا کیڈٹ کالج حملے کی مذمت کی ہے۔ میرانشاہ‘ کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔ جوابی کارروائی میں دو خوارج ہلاک ہو گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ساؤتھ وزیرستان کے علاقے وانا میں واقع کیڈٹ کالج وانا پر ایک بزدلانہ اور بہیمانہ دہشت گردانہ حملہ کیا گیا۔ حملہ آوروں کا تعلق بھارتی پراکسی تنظیم ’’فتنہ الخوارج‘‘ سے تھا۔ حملہ آوروں نے کالج کی بیرونی سکیورٹی سرحد کو توڑنے کی کوشش کی۔ تاہم ہماری چوکس اور پختہ کارروائی نے ان کے مذموم عزائم کو فوری طور پر ناکام بنا دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں نے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی جس کے نتیجے میں مرکزی دروازہ منہدم ہوگیا اور قریبی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ سکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندر گھسنے والے حملہ آوروں کا مؤثر جواب دیا۔ آپریشن کے دوران دو خوارج ہلاک ہوگئے جبکہ تین خوارج کالج کے انتظامی بلاک میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور وہیں محصور ہیں جن کے خلاف محاصرہ کرکے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان خوارج نے ایک بار پھر وہی سفاکانہ واردات دہرانے کی کوشش کی ہے جو 2014ء میں آرمی پبلک سکول پشاور میں انجام دی گئی تھی۔ واردات کا مقصد نوجوان نسل میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔ خصوصاً ان طالب علموں میں جو قبائلی علاقوں میں معیاری تعلیم حاصل کر کے اپنے اور اپنے معاشروں کا مستقبل بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کالج کے اندر چھپے خوارج اپنے آقاؤں اور ہینڈلرز سے افغانستان سے رابطے میں ہیں اور انہیں ہدایات مل رہی ہیں۔ یہ بہیمانہ کارروائیاں افغان سرزمین سے منسوب دہشت گرد ڈھانچوں کی طرف سے کی جا رہی ہیں۔ یہ معاملات افغان طالبان کے دعووں کے برعکس ہیں کہ ان کے ہاں ایسے دہشت گرد گروپس موجود نہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستان کسی بھی وقت دہشت گردوں اور ان کے قیادت کے خلاف، چاہے وہ افغانستان میں ہی کیوں نہ ہوں، جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ علاقے میں باقی بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز تیزی سے جاری ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وفاقی اپیکس کمیٹی کے تحت ویژن ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت بلاوقفہ انسداد دہشت گردی مہم کو مکمل قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے تاکہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی والی دہشت گردی کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ہماری سکیورٹی فورسز نے وزیرستان میں دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنایا۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ افغان اور بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں نے بزدلانہ حملہ کیا تاہم خوارج اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ پاکستان کی مسلح افواج چوکنا ہیں۔ بھارتی سپانسرڈ فتنہ الخوارج کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ ایسے بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ دہشت گردی کے لئے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔جنوبی وزیرستان اپر میں کانی گرم کے علاقے مومی کڑم کچکے میں بارودی مواد کا دھماکہ ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکے میں ایک نوجوان زخمی ہو گیا۔ بارودی مواد زیر زمین نصب تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔