سری نگر:مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے انہتا پسند وزیر کو مسلمانوں کو دہشت گرد  کہنے پر کرارا جواب دیا ہے۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر گری راج سنگھ کے ایک متنازع بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی یا مجرمانہ کارروائیوں کو کسی ایک مذہب سے جوڑنا غیر منصفانہ اور گمراہ کن ہے۔

ان کے مطابق اگر گری راج سنگھ کے معیار کو دیکھا جائے، تو پھرحال ہی میں ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے قتل اور سانحات پر بھی سوال اٹھانے ہوں گے۔

فرید آباد میں 360 کلو بارودی مواد اور اسلحہ برآمد ہونے کے بعد دو ملزمان کی گرفتاری پر گری راج سنگھ نے تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایسے معاملات میں ”ہمیشہ ایک ہی کمیونٹی“ کے لوگ پکڑے جاتے ہیں۔

اس پر محبوبہ مفتی نے پریس کانفرنس کے دوران کہاگری راج جی سے پوچھیں کہ مہاتما گاندھی کو کس نے قتل کیا؟ اندرا گاندھی کو کس نے مارا؟ راجیو گاندھی کے قتل میں کون شامل تھا؟ پہلے اس کے جواب دیں، پھر بات کریں۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ ملک کی سیاست کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا انتہائی نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔

اگر مجرمانہ کارروائی پر بحث ہونی ہے تو اسے ثبوتوں اور تفتیش کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ مذہبی بنیاد پر۔ اس طرح کے بیان قوم کے اتحاد، سماجی ہم آہنگی اور آئینی اقدار کے خلاف ہیں۔

مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے ایک بیان میں 1993 ممبئی دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہااگر یہ بارودی مواد بابا باگیشور کی یاترا کے دوران استعمال ہوتا تو کیا ہوتا؟ ہر بار جب ایسے لوگ پکڑے جاتے ہیں تو وہ ایک خاص کمیونٹی سے ہوتے ہیں… اس بار بھی ایک مسلم ڈاکٹر گرفتار ہوا ہے۔

انہوں نے ساتھ ہی اپوزیشن لیڈروں راہل گاندھی، لالو پرساد یادو، اکھلیش یادو اور اسد الدین اویسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ اس معاملے پر کچھ نہیں بولتے۔

یہ سارا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب جموں و کشمیر پولیس نے ہریانہ کے فرید آباد علاقے سے آتش گیر مواد اور گولہ بارود کی بڑی مقدار برآمد کی۔ اس کارروائی کے دوران دو افراد، ڈاکٹر مزمل اور عادل راتھر کو گرفتار کیا گیا۔

محبوبہ مفتی نے خبردار کیا کہ ایسے بیانات نہ صرف ملک کی گنگاجمنی تہذیب کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ سماجی تقسیم کو بھی گہرا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہایہ وقت نفرت بڑھانے کا نہیں، بلکہ لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کا ہے، سیاسی فائدے کے لیے مذہبی منافرت پھیلانا ملک کے مستقبل کے لیے خطرناک ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل محبوبہ مفتی نے گری راج سنگھ

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار