نمبرز پورے ہوگئے ہیں، اب ایمل ولی کیا کریں گے؟خاتون صحافی کے سوال پر اعظم نذیر تارڑ نے کیا جواب دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
نمبرز پورے ہوگئے ہیں، اب ایمل ولی کیا کریں گے؟خاتون صحافی کے سوال پر اعظم نذیر تارڑ نے کیا جواب دیا؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سیاست میں گفت و شنید ہی جمہوریت کا حسن ہے، اگر ڈائیلاگ کا عمل ختم ہو جائے تو صرف لڑائی باقی رہ جاتی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک خاتون صحافی نے سوال کیا کہ “نمبرز پورے ہوگئے ہیں، اب ایمل ولی کیا کریں گے؟” جس پر اعظم نذیر تارڑ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ “ایمل ولی خان بھائی ہیں ہمارے۔”
اسی دوران ایک خاتون صحافی نے کہا، “آپ کے بھائی جاتے ہوئے بڑا غصہ کر کے گئے ہیں!”، تو وزیر قانون نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا، “نہیں، ایسا نہیں ہے۔ گفت و شنید سیاست کا حسن ہے۔”
خاتون صحافی کے ایک اور سوال پر کہ “کیا 27ویں آئینی ترمیم میں خیبر پختونخوا کا نام تبدیل ہوگا؟” اعظم نذیر تارڑ نے کہا، “ابھی کچھ دیر تک بتاتے ہیں۔”
وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے جمہوری روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بہترین فیصلہ کیا ہے اور پارلیمانی عمل میں مشاورت کا تسلسل برقرار رہے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجاپان میں 6.9 شدت کا زلزلہ، سونامی کی وارننگ جاری بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے غیر ملکی وفود اسلام آباد پہنچ گئے جے یو آئی کا 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلیے سینیٹ کا اجلاس جاری، حکومت کا نمبرز پورے ہونے کا دعویٰ ستائیسویں آئینی ترمیم پر سینیئرز وکلا اور ریٹائرڈ ججز کا چیف جسٹس پاکستان کو خط، اہم مطالبہ کر دیا ستائیسویں ترمیم مکمل مسترد، کسی بھی شخص کو عدالتی استثنیٰ غیر شرعی ہے: حافظ نعیم ’ہم تو ویسے بھی بیچارے ایسے ہی ہیں یہاں‘، آئینی عدالت سے متعلق جسٹس منصور علی شاہ کے دلچسپ ریمارکس
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ نے خاتون صحافی نمبرز پورے ایمل ولی
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔