وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 27ویں ترمیم میں عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ اس ترمیم کے ثمرات ضرور عوام تک پہنچیں گے بلکہ آئینی عدالت بننے سے سپریم کورٹ التوا کا شکار مقدمات جلد نمٹا سکے گی۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مجھے سمجھ نہیں آتا 27ویں ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم کیسے ہے۔ وزیراعظم پر قدغن ہے کہ آئینی عدالت کے ججز سپریم کورٹ سے ہی لیں گے۔

مزید پڑھیں: 27ویں کے بعد 28ویں آئینی ترمیم بھی آ رہی ہے: رانا ثنااللہ نے تصدیق کردی

انہوں نے کہاکہ بنادی ڈھانچے کی بات بعد میں پتا نہیں کہاں سے بنا لی گئی، آئین بنانے والوں نے لکھا ہے کہ جتنی ضرورت ہوگی ترمیم کی جائےگی۔

وزیر قانون نے کہاکہ آئینی عدالت کی بات 2006 سے کی جا رہی ہے۔ اگر آئینی ترمیم کے معاملے پر ہم چیف جسٹس سے مشاورت کرتے تو یہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہوتی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ آئینی بینچز بنائے تو ہم پر تنقید ہوئی کہ یہ خود بینچز بنانے بیٹھ گئے ہیں۔ عدالت کے اندر بنیادی ڈھانچے کی نہیں طاقت کی لڑائی ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ ایوان بالا (سینیٹ) نے 27ویں آئینی ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری دے دی ہے، آئینی ترمیم کے حق میں 64 ووٹ ڈالے گئے۔

اس دوران پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی سے تعلق رکھنے والے احمد خان نے بھی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔

مزید پڑھیں: 27ویں ترمیم کا بل کل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائےگا، اجلاس کا ایجنڈا جاری

پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام نے آئینی ترمیم کے لیے ووٹنگ کا حصہ نہ بننے کا اعلان کر رکھا تھا، تاہم یہ دونوں ارکان ایوان میں آئے اور ووٹ دینے کے بعد چلے گئے۔

اب 27ویں آئینی ترمیم کا بل کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائےگا، جس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آئینی ترمیم اعظم نذیر تارڑ سینیٹ قومی اسمبلی وزیر قانون وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ سینیٹ قومی اسمبلی وی نیوز ا ئینی ترمیم کے 27ویں ترمیم کہ ا ئینی نے کہاکہ

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن