WE News:
2026-06-03@01:56:29 GMT

27ویں آئینی ترمیم: جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

27ویں آئینی ترمیم: جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط

سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے 27ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ دیا ہے جس میں انہوں نے عدلیہ کے ڈھانچے میں مجوزہ تبدیلیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم، آئینی عدالت کے قیام سے متعلق اہم نکات سامنے آگئے

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں چیف جسٹس سے بطور عدلیہ سربراہ فوری طور پر ایگزیکٹو سے رابطہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئینی عدالتوں کے ججز سے مشاورت کے بغیر اس نوعیت کی ترمیم نہیں کی جا سکتی۔

عدالتی ججز کا کنونشن بلانے کی تجویز

خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے ججز پر مشتمل ایک کنونشن بھی بلایا جا سکتا ہے تاکہ مجوزہ ترامیم پر مشترکہ مؤقف تشکیل دیا جا سکے۔ انہوں نے لکھا کہ چیف جسٹس نہ صرف اس ادارے کے ایڈمنسٹریٹر ہیں بلکہ اس کے گارڈین بھی ہیں اور یہ لمحہ ان سے لیڈرشپ کا تقاضا کرتا ہے۔

سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں ایک علیحدہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز شامل ہے جبکہ سپریم کورٹ کو محض ایک اپیلٹ باڈی کے طور پر محدود کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سینیئر وکیل فیصل صدیقی کا چیف جسٹس کو خط، 27ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار

ان کے مطابق عدلیہ کے ڈھانچے میں تبدیلی ایگزیکٹو یا مقننہ کی طرف سے یکطرفہ طور پر نہیں کی جاسکتی۔

26ویں ترمیم زیرِ التواء، نئی ترمیم غیرمناسب قرار

انہوں نے نشاندہی کی کہ 26ویں آئینی ترمیم پہلے ہی عدالت میں زیر التوا ہے، لہٰذا اس کے فیصلے سے قبل نئی ترمیم لانا آئینی اور قانونی لحاظ سے مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلی ترمیم کی قانونی حیثیت بھی ابھی طے نہیں ہوئی، اس لیے ایک اور ترمیم کا اقدام درست نہیں۔

اعلیٰ عدلیہ سے مشاورت نہ ہونے پر اعتراض

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ترمیم پر اعلیٰ عدلیہ سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، حالانکہ دنیا کے تمام جمہوری نظاموں میں عدلیہ سے متعلق قانون سازی سے پہلے ججز سے مشاورت کی جاتی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی دلیل پر اعتراض

جسٹس منصور علی شاہ نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی مجوزہ دلیل پر بھی اعتراض کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت یہ مؤقف دے رہی ہے کہ اس عدالت کے قیام سے زیر التوا مقدمات میں کمی آئے گی، حالانکہ زیادہ تر زیر التوا مقدمات ضلعی عدلیہ کی سطح پر ہیں، سپریم کورٹ میں نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے، عطاتارڑ

’علیحدہ آئینی عدالت ناگزیر نہیں

انہوں نے لکھا کہ یہ دعویٰ درست نہیں کہ ایک علیحدہ آئینی عدالت ناگزیر ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان اور برطانیہ میں صرف ایک سپریم کورٹ ہے جو تمام آئینی معاملات سنبھالتی ہے۔

میثاقِ جمہوریت میں وقتی تجویز تھی

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میثاقِ جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کی تجویز صرف چھ سال کے لیے محدود مدت تک دی گئی تھی اور وہ بھی ایک خاص سیاسی پس منظر میں، لہٰذا اسے مستقل نظام بنانے کی کوشش درست نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئینی عدالت کے قیام کی جسٹس منصور علی شاہ نے 27ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ چیف جسٹس انہوں نے گیا ہے یہ بھی

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور