Express News:
2026-07-24@03:01:36 GMT

بیرونی مداخلت اور سازشوں کے خلاف ٹھوس موقف

اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT

سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت گہرے سمندر میں ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے مگر اس بار جواب پہلے سے زیادہ شدید ہوگا۔

پاکستان کی ریاست غیر ریاستی عناصر کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتی، افغانستان میں نمایندہ حکومت نہیں، ہم افغانستان میں عوامی نمایندہ حکومت کے حامی ہیں، اگر افغانستان کی طرف سے پاکستان میں دراندازی ہوئی تو پھر جنگ بندی کو ختم سمجھا جائے گا اور ایسے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

 لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے حالیہ بیان نے نہ صرف ملکی سلامتی کے تقاضوں کو اجاگر کیا ہے بلکہ پاکستان کی داخلی و خارجی پالیسی کے کئی اہم پہلوؤں پر نئی روشنی بھی ڈالی ہے۔ ان کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطہ مسلسل غیر یقینی حالات سے دوچار ہے، افغانستان میں سیاسی خلا گہرا ہو رہا ہے، بھارت کی اشتعال انگیزیاں بڑھ رہی ہیں اور ملک کے اندر دہشت گردی کے نئے رنگ سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے الفاظ محض ایک ترجمان کے نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کے مؤقف کے عکاس ہیں۔ ان کے بیان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

 ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ کہنا کہ افغانستان میں نمایندہ حکومت نہیں اور پاکستان وہاں عوامی نمایندہ حکومت کا حامی ہے، اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلام آباد اب ایک حقیقت پسندانہ مؤقف اپنا رہا ہے۔ طالبان نے دوحہ معاہدے میں لویا جرگہ بلانے اور ایک جامع حکومت کے قیام کا وعدہ کیا تھا مگر وہ وعدہ پورا نہ ہوا۔ آج افغانستان ایک محدود طبقے کے ہاتھ میں ہے جس کے فیصلے وہاں کے عوام کی نمایندگی نہیں کرتے۔ اس صورتحال نے خطے میں بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔

پاکستان نے بارہا افغان حکومت کو آگاہ کیا کہ دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانے افغان سرزمین پر موجود ہیں، مگر کابل نے اس مسئلے کو تسلیم کرنے کے بجائے ہمیشہ انکار یا خاموشی اختیار کی۔ اب ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستان میں مارے گئے دہشت گردوں میں ساٹھ فیصد افغان شہری شامل تھے اور یہاں تک کہ افغانستان کی فوج کے سپاہی بھی اس دہشت گردی میں ملوث پائے گئے، یہ انکشاف معمولی نہیں۔ یہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان کی سرکاری مشینری کے بعض عناصر پاکستان دشمن سرگرمیوں میں براہِ راست شریک ہیں، اگر ایسا ہے تو یہ صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور امن کی راہ اپنائی۔ ترجمان پاک فوجکا کہنا کہ ’’ہم اب بھی طالبان سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں‘‘ پاکستان کے بردبار اور ذمے دار رویے کا ثبوت ہے، مگر انھوں نے ساتھ ہی واضح کر دیا کہ اگر دراندازی جاری رہی تو جنگ بندی کو ختم سمجھا جائے گا۔

یہ الفاظ سفارتی زبان میں ایک سخت انتباہ ہیں۔ پاکستان نے دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ستر ہزار سے زیادہ جانیں قربان کی ہیں۔ اب مزید قربانیوں کی گنجائش نہیں۔ افغان قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ’’بس بہت ہوگیا‘‘ کے الفاظ پاکستان کے بڑھتے ہوئے اضطراب کی علامت ہیں۔

 ادھر بھارت کی سازشوں کا سلسلہ بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ پاک فوج کے ترجمان نے انکشاف کیا کہ بھارت اس بار سمندر کے راستے سے فالس فلیگ آپریشن کرنے کا منصوبہ بنا سکتا ہے۔ بھارت کی یہ پرانی پالیسی ہے کہ وہ اپنے اندرونی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان مخالف ڈرامے رچاتا ہے۔

پلوامہ حملہ اس کی تازہ مثال تھی جس کے جھوٹ کا پول بعد میں خود بھارتی صحافیوں نے کھولا۔ اب اگر بھارت دوبارہ ایسی کوشش کرتا ہے تو پاکستان پوری طرح تیار ہے۔ ’’ اس بار جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا‘‘ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک عزم ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی مگر جب بھی اس کے وقار پر حملہ ہوا تو اس نے بھرپور جواب دیا۔ بالاکوٹ کا واقعہ اس کی مثال ہے جس نے دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کسی سے کم نہیں۔ترجمان پاک فوج نے امریکا سے متعلق بھی ایک اہم وضاحت کی۔

افغانستان کے بعض حلقے یہ پروپیگنڈا کر رہے تھے کہ پاکستان کی سرزمین امریکی ڈرون حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، مگر انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ جھوٹ ہے، پاکستان نے امریکا کو اپنی زمین پر کوئی اجازت نہیں دی۔ یہ بیان پاکستان کی خود مختاری کے عزم کی تصدیق کرتا ہے۔ پاکستان کسی ملک کا آلہ کار نہیں اور نہ ہی کسی کی جنگ لڑنے کا خواہاں ہے۔ ایک اور نہایت اہم پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں 12 ہزار ایکڑ زمین پر پوست کی کاشت ہو رہی ہے، جس سے فی ایکڑ لاکھوں روپے منافع حاصل کیا جا رہا ہے۔ یہ منافع دہشت گرد گروہوں کے مالی ذرایع کا حصہ بنتا ہے۔

منشیات کا پیسہ دہشت گردی کے ایندھن کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسی معیشت ہے جو خون سے چلتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس گھناؤنے دھندے میں بعض مقامی سیاستدان اور بااثر افراد بھی ملوث پائے گئے ہیں، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ معاملہ کس حد تک خراب ہیں اور انھیں ٹھیک کرنے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ 

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں جس قربانی اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے، دنیا اس کی مثال نہیں دے سکتی، مگر بدقسمتی سے اس جنگ کی جڑیں صرف بندوق سے نہیں کٹ سکتیں۔ جب تک دہشت گردوں کے مالی وسائل ختم نہیں کیے جائیں گے، یہ عفریت ختم نہیں ہوگا۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کو چاہیے کہ پوست کی کاشت کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کرے اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا قلعہ قمع کیا جائے ۔

 ترجمان پاک فوج نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ فوج سیاست میں نہیں الجھنا چاہتی۔ یہ جملہ پاکستان کی جمہوری سیاست کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب بال حکومت کے کورٹ میں ہے۔ سیاسی قیادت کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنی ذمے داریاں سنبھالنے کے قابل ہے، اگر سیاستدان اپنی نااہلی یا اختلافات کی آڑ میں ہر ناکامی کا الزام فوج پر ڈالیں گے تو یہ جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ فوج کا سیاست سے دور رہنے کا اعلان خوش آیند ہے، لیکن اس کا تقاضا یہ ہے کہ سیاستدان بھی بالغ نظری کا مظاہرہ کریں۔

 پاکستان کو اس وقت بیرونی دشمنوں سے زیادہ خطرہ اندرونی انتشار سے ہے۔ جب قوم تقسیم ہو، ادارے ایک دوسرے پر الزام لگائیں اور سیاست دان ذاتی مفادات کی جنگ لڑیں، تو دشمن کے لیے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں، اگر ہم نے اب بھی اتحاد پیدا نہ کیا تو بیرونی خطرات سے نمٹنا ممکن نہیں ہوگا۔پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، ایک مضبوط فوج رکھتا ہے اور قربانیاں دینے والی قوم ہے، مگر اصل طاقت اس کے اتحاد میں ہے۔ دشمن ہمیں کمزور اسی وقت کرسکتا ہے جب ہم اندر سے ٹوٹ جائیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیاسی اختلافات کو ایک حد میں رکھیں اور قومی سلامتی کے معاملات پر ایک صفحے پر آئیں۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات ہوں یا بھارت کی جارحیت، یا دہشت گردی کے خلاف اقدامات۔ یہ سب ایسے موضوعات ہیں جن پر قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔

پاک فوج کے ترجمان کا بیان صرف ایک بریفنگ نہیں بلکہ ایک قومی لائحہ عمل کی جھلک ہے۔ اس میں خارجہ پالیسی کے اصول، دفاعی حکمتِ عملی اور داخلی استحکام کے پہلو ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ ایک طرف انھوں نے افغانستان کو انتباہ دیا کہ دراندازی ناقابلِ برداشت ہے، دوسری طرف بھارت کے ممکنہ حملوں پر واضح کر دیا کہ اس بار جواب شدید ہوگا، اور تیسری طرف اندرونی سطح پر منشیات اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا۔ یہ تینوں پہلو دراصل پاکستان کی قومی سلامتی کے بنیادی ستون ہیں۔

 حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے دشمن باہر بھی کم نہیں ، جب کہاندر بھی ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم شعور کے ساتھ اپنی صفیں درست کریں۔ فوج اپنی ذمے داری نبھا رہی ہے، اب سیاستدانوں، اہل علم ، علماء کرام اور ادیب وشعراء کو بھی اپنی ذمے داری پوری کرنی ہے۔ تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو مشکل وقت میں ایک ہو جاتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نمایندہ حکومت افغانستان میں دہشت گردی کے پاکستان کی پاکستان کے کہ پاکستان پاکستان نے بھارت کی سے زیادہ ہیں اور پاک فوج کے خلاف دیا کہ کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار