WE News:
2026-07-24@02:42:23 GMT

فتح افغانستان کے بعد پاکستان کی اگلی طویل جنگ

اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT

پاکستان اور افغانستان کے مابین استنبول میں ہونے والے اتار چڑھاؤ سے بھرپور مذاکرات کے بعد اب اس خطے میں دلچسپی رکھنے والے تمام حلقوں کی نظریں 6 نومبر پر ہیں، جب دونوں ممالک کے متعلقہ وفود سیز فائر کا مستقبل طے کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر اکٹھے ہوں گے۔

لیکن 6 نومبر سے تین روز قبل 3 نومبر کو افواج پاکستان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودہری نے واضح کر دیا ہے کہ ان مذاکرات کی اگلی نشست میں فیصلہ جو بھی ہو پاکستان سے دہشت گردی کو اب ختم ہونا ہو گا اور پاکستان اس کے لیے ہر حد تک جائے گا۔

احمد شریف چودہری نے تمام ابہام دور کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر دہرایا ہے کہ افغانستان سے حالیہ مذاکرات کا ایک ہی نقطہ ہے کہ اس سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی رکنی چاہیئے اور اس کو یقینی بنانے کے لئے نگرانی کا ایک نظام قائم کیا جانا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پہلی مرتبہ پاکستان میں دہشت گردی کے میکانزم کو بھی بے نقاب کیا ہے اور انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منشیات کے تاجر اور ان کے سرپرست مقامی سیاستدان اس ناجائز کاروبار کی حفاظت کے لیے دہشت گردوں کی مدد لیتے ہیں اور بدلے میں اس کا حصہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان تک پہنچاتے ہیں، لیکن پاکستان اب اس طرح کی سرگرمیاں برداشت نہیں کرے گا۔

ان کھلم کھلا اعلانات کے بعد اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی کہ افغان طالبان، ان کی طفیلی ٹی ٹی پی یا پاکستان کا ازلی دشمن انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں جاری رکھ سکے۔ اب یا تو افغان طالبان کو ازخود اس برائی کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا یا پھر پاکستان کے غیض و غضب کا سامنا کرنا ہو گاکیونکہ پاکستانی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہاں سے ہونے والی کسی بھی دہشت گرد کاروائی کا مطلب جنگ بندی معاہدے کا خاتمہ ہو گا۔

لیکن یہ بھی اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کمانڈروں کو بچانے کے لیے افغانستان کے شہری علاقوں اور گلی محلوں میں منتقل کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اول تو انسانی شیلڈ استعمال کرتے ہوئے ان دہشت گردوں کو عام لوگوں میں چھپا دیا جائے یا پھر اگر پاکستانی فورسز ان تک پہنچ جائیں تو یہ واویلا کیا جائے کہ پاکستان نے عام لوگوں کو نشانہ بنایا ہے۔

مگر وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ اب افغان طالبان جو بھی کوشش کریں وہ یقینی طور پر ناکام ہی ہو گی کیونکہ پاکستان نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اب امن بھیک سے نہیں چھین کر حاصل کیا جائے گا۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا، کچھ ماہ پہلے تک پاکستان تمام ہمسائیوں سے انتہائی خوش اخلاقی سے یہ درخواست کررہا تھا کہ پاکستان میں دراندازی بند کی جائے اور دہشت گردی کی پراکسی جنگوں کا خاتمہ کیا جائے لیکن ہمارے مشرقی اور مغربی ہمسایوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

پھر پاکستان کی اعلی قیادت نے خوش اخلاقی اور بہترین ہمسائیگی کی قبا کو ایک طرف رکھا اور اپنے دشمنوں سے انہی کی زبان میں بات کرنے کی حکمت عملی اختیار کی، پاکستان کو ایک ہارڈ سٹیٹ [سخت ریاست] میں تبدیل کیا۔

رواں سال مئی میں پوری دنیا نے دیکھا کہ رویے میں اس تبدیلی نے ہمارے دشمن کو میدان جنگ سے بھاگنے پر کیسے مجبور کیا۔

اور پھر اکتوبر میں دہشت گردوں کے خلاف افغانستان کے اندر کارروائی سے دہشت گردی کا منبع ابھی تک لرز رہا ہے اور بے گناہ انسانوں کے قتل عام سے اپنی معیشت چلانے والے اس انسانیت سوز رجیم کے سوداگر طالبان وقت حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

مگر اب ان کے ہاتھ امن کے سوا کچھ نہیں آئے گا کیونکہ پاکستان نے اپنے بین الااقوامی دوستوں اور اس معاملے کے ثالثین پر بھی واضح کر دیا ہے کہ اب اس معاملے پر مزید سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور یہ ختم ہو کر رہے گا کیوں نہ اس کے لیے طالبان رجیم کو گھر جانا پڑے۔

سو یہ تو طے ہے کہ اب پاکستان نے افغان رجیم کو ہر صورت امن یقینی بنانے کے لیے مجبور کر دینا ہے، لیکن پاکستان کے لیے یہ جنگ اتنی جلدی ختم نہیں ہونے والی۔

افغانستان کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے والے مقامی، علاقائی اور بین الااقوامی کھلاڑیوں نے اپنی دہائیوں کی مہم جوئیوں میں افغان عوام کو پاکستان کے خلاف کر دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات بونے میں کئی پاکستانی حکمرانوں کا بھی بڑا کردار ہے لیکن وجوہات جو بھی ہوں، پاکستان کو اس محاذ پر بھی ہر حال میں فتح حاصل کرنی ہے۔

پاکستان کے لیے جتنا ضروری اپنے ملک میں امن ہے اتنا ہی ضروری افغان عوام کی حمایت بھی ہے کیونکہ یہ پراکسیز اور جنگوں کی معیشت پر پلنے والی قاتل رجیمیں تو ختم ہو جائیں گی مگر پاکستان اور افغانستان کے عوام نے ہمیشہ ساتھ رہنا ہے اور یہ جتنے اچھے طریقے سے رہیں، اتنا ہی بہتر ہے۔ اس لیے پاکستان کو یہ حالات بنانے کے لیے ایک سافٹ سٹیٹ [نرم دل ریاست] کا روپ بھی ضرور دھارنا ہے۔

ضرورت یہ ہے کہ پاکستان جہاں ایک طرف افغان طالبان رجیم اور اس کے سرپرستوں کو سبق سکھانے کے لیے ایک شاندار حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے وہاں اس کے متوازی ایک ایسی حکمت عملی تیار کرے جو افغان عوام کو پاکستان کے قریب لانے کے نکات پر مبنی ہو، کیونکہ دونوں ممالک کے عوام نے ہمیشہ ساتھ رہنا ہے اور ان کا مستقبل ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔

ہمیں ایک طویل جنگ لڑنا پڑے گی جو نہ صرف افغانستان کو ہمارے دشمنوں کے شکنجوں سے آزاد کرائے بلکہ افغان عوام کو ان دشمنوں کی زہریلی چالوں سے بھی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خرم شہزاد

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان کے افغان طالبان پاکستان کے کہ پاکستان پاکستان نے افغان عوام کہ افغان کے لیے ہے اور ختم ہو

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار