پاکستان آئیڈل کا جج بننے پر تنقید، فواد خان نے بھی خاموشی توڑدی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
معروف اداکار فواد خان نے آخرکار ’پاکستان آئیڈول‘ کے جج کے طور پر شامل ہونے پر سوشل میڈیا پر کی جانے والی تنقید پر خاموشی توڑ دی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک رپورٹر نے فواد خان سے سوال کیا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ پاکستان آئیڈل میں جج بننے کا تجربہ کیسا ہے؟ جس پر فواد خان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ قوم وہ سب جانتی ہے جو وہ جاننا چاہتی ہے، آج کل سب کو سب کچھ معلوم ہے۔
View this post on Instagram
A post shared by Bilal Hassan | بلال حسن (@mystapaki)
فواد خان کا کہنا تھا کہ جب میں پاکستان آئیڈل کی کرسی پر بطور جج بیٹھتا ہوں تو مجھے ہمیشہ ’بیٹل آف دی بینڈز‘ کے دن یاد آتے ہیں۔ وہ ایک تفریحی پلیٹ فارم ہی رہا ہے جس نے کئی باصلاحیت فنکاروں کو متعارف کرایا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں جج کی کرسی پر بطور سامع ہی بیٹھتا ہوں۔
جب میزبان نے مذاق میں پوچھا کہ کیا فلم میں انہیں گانے کا موقع ملا، تو فواد خان نے ہنستے ہوئے کہا کہ نہیں، پاکستان مجھے گانے ہی نہیں دے رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاکستان آئیڈل میں ایسے جج بیٹھے ہیں جن کا موسیقی سے تعلق نہیں‘، حمیر ارشد کی فواد خان پر تنقید
واضح رہے کہ معروف گلوکارہ حمیرا ارشد نے فواد خان کی پاکستان آئیڈل میں بطور جج شمولیت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں ایسے فنکار بیٹھے ہیں جن کا موسیقی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں ایسے لوگ جج بن جاتے ہیں جن کا موسیقی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اور ججز کو خود بھی شرم آنی چاہیے کہ جب ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے تو ہمیں اس میں نہیں آنا، ان کو آگے بڑھ کر خود کہنا چاہیے کہ آپ متعلقہ لوگوں کو ہی بطور جج بٹھائیں، ہمیں ساتھ بٹھا لیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آئیڈل کے ججز پر تنقید توجہ حاصل کرنے کے لیے ہے‘، موسیقار ہارون شاہد کا حمیرا ارشد کو جواب
حمیرا ارشد نے مزید کہا کہ یہ تو خود توہین کرانے والی بات ہے کہ آپ اپنے پروگرام کا خود مذاق بنا رہے ہیں، شو میں کوئی بچہ کہہ دے کہ اگر میں نے ٹھیک نہیں گایا آپ گا کر دکھا دیں تو جج کیا کرے گا کیا وہ 2 مہینے بعد سیکھ کر آئے گا۔ انہوں ںے مزید کہا کہ ایک بندہ پروگرام میں اتنا برا گا رہا تھا لیکن جج رو رہا تھا۔ ان کے مطابق ایسے پروگرامز میں ان لوگوں کو جج بنایا جانا چاہیے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی موسیقی کے لیے وقف کر دی ہو۔
واضح رہے کہ ان دنوں’پاکستان آئیڈل سیزن 2‘ جاری ہے جس میں فواد خان کے ساتھ راحت فتح علی خان، بلال مقصود اور زیب بنگش ججز کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان آئیڈل حمیرا ارشد فواد خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان آئیڈل فواد خان پاکستان ا ئیڈل فواد خان نے تھا کہ
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس