ہندوکش میں 6.3 شدت کا زلزلہ، پاکستان، افغانستان اور ایران سمیت خطہ لرز اٹھا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افغانستان کے شمالی علاقے ہندوکش میں رات گئے آنے والے 6.3 شدت کے طاقتور زلزلے نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق زلزلے کے جھٹکوں نے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک میں بھی خوف و ہراس پھیلا دیا۔ جرمن جیو فزیکل ریسرچ سینٹر کے مطابق زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی جب کہ اس کا مرکز افغانستان کے شمالی قصبے خُلم سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔
رات کے وقت آنے والے اس زلزلے کی وجہ سے کئی علاقوں سے شہری خوف کے مارے گھروں سے نکل کر کھلی جگہوں پر نکل آئے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق زلزلے کی شدت مزار شریف اور اس کے مضافاتی علاقوں میں زیادہ محسوس کی گئی، جہاں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق کئی عمارتوں میں دراڑیں پڑنے اور معمولی مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
زلزلے کے جھٹکے افغانستان کے ساتھ ترکمانستان، تاجکستان، ازبکستان اور ایران تک محسوس کیے گئے۔ پاکستان میں بھی قدرتی آفت محسوس کی گئی، خاص طور پر خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور شمالی علاقوں میں عمارتیں لرز اٹھیں۔ اُدھر بھارت کے شمال مغربی سرحدی علاقوں میں بھی زمین لرزنے کی اطلاعات ملی ہیں۔
ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ ہندوکش ریجن زمین کی ٹیکٹونک پلیٹوں کے ٹکراؤ کے باعث دنیا کے خطرناک ترین زلزلہ خیز خطوں میں سے ایک ہے، جہاں حالیہ برسوں میں زلزلوں کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زیر زمین اگر ایسی سرگرمیاں اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو مستقبل میں مزید بڑے اور تباہ کن زلزلوں کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور