بلوچستان میں مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی فری لانسرز کورسز کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (PAFLA)، اِنوِسٹا (Innovista) اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کے اشتراک سے بلوچستان کے میں سائنس گریجویٹس کے لیے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور سائبر سیکیورٹی کے جامع تربیتی پروگرامز کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اس پروگرام میں بلوچستان بھر کے 20 ہزار نوجوانوں کو آن لائن اور مقامی تربیتی مراکز کے ذریعے تربیت دینا ہے۔ خصوصی تربیتی سیشنز سبّی، تربت، خضدار، پنجگور، اور گوادر میں منعقد کیے جائیں گے۔ شرکاء کو ڈیجیٹل معیشت میں شامل ہونے میں مدد دینے کے لیے رہنمائی (mentorship) سیشنز، کورس کی تکمیل پرسرٹیفیکیشن، اور کیریئر گائیڈنس بھی فراہم کی جائے گی۔ ۔
کوئٹہ میں اِنوِسٹا کے دورے کے موقع پر وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر نے کہا کہ حکومت نے اس صوبے کے انسانی سرمائے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بلوچستان میں مختلف تکنیکی اور تربیتی ادارے ترجیحی بنیادوں پر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی کی یہ تربیت بلوچستان کے نوجوانوں کو دنیا کی ڈیجیٹل اور علمی معیشت کا حصہ بنائے گی۔
اس تعاون کے تحت، PAFLA اور اِنوِسٹا جامع تربیتی پروگرامزمنعقد کریں گے جو شرکاء کو مصنوعی ذہانت کے اطلاقات، مشین لرننگ، ڈیٹا اینالیٹکس، اور سائبر سیکیورٹی میں عملی تجربہ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ تاکہ یہ طلبہ ایک فعال فری لانسنگ ماحول میں کام کرسکیں۔
PAFLA کے چیئرمین، ابراہیم امین نے کہا، “ہمارا مشن پاکستان کے نوجوانوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے، خاص طور پر بلوچستان جیسے صوبوں میں جہاں ڈیجیٹل شمولیت (digital inclusion) ابھی ترقی کے مراحل میں ہے۔ اِنوِسٹا کے ساتھ اس شراکت داری کے ذریعے، ہمارا مقصد بلوچستان کو ٹیکنالوجی ٹیلنٹ اور جدت کا مرکز بنانا ہے۔”
اِنوِسٹا چاغی کے سی ای او، عمران توقیر نے مزید کہا، “ہمیں یقین ہے کہ معیاری تکنیکی تعلیم تک رسائی کمیونٹیز کو بدل سکتی ہے۔ PAFLA کے ساتھ تعاون کے ذریعے، ہم بلوچستان کے نوجوانوں، خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں، کو ایسی مہارتوں سے لیس کرنے کے لیے پرعزم ہیں جن کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ یہ اقدام صرف تعلیم کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ بااختیار بنانے اور مواقع فراہم کرنے کے بارے میں ہے۔”
نوجوان آبادی صوبے کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل ہے، جس میں 28 لاکھ سے زیادہ نوجوان شامل ہیں۔ NAVTTC کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد عامر جان نے کہا کہ PAFLA، اِنوِسٹا، اور NAVTTC کا یہ تعاون پاکستان کے بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی کے منظرنامے میں ڈیجیٹل بااختیاری، صنفی شمولیت، اور علاقائی مہارتوں کی ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت اور سائبر ا نو سٹا نے کہا کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ