Express News:
2026-06-02@23:49:05 GMT

غزہ، امن کا منظر نامہ دھندلا رہا ہے

اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT

غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے بعد 62 ویں دن شدید موسم اور بارش نے خیموں میں قیام پذیر فلسطینیوں کی مصیبتیں مزید بڑھا دیں۔ المواصی میں پانی خیموں میں داخل ہوگیا، انسانی حالات مزید ابتر ہوگئے۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کو موخرکردیا اورکہا کہ ’’ غزہ امن بورڈ‘‘ کا اعلان فی الحال روک دیا گیا ہے۔ میڈیا کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج نے 29 فلسطینی صحافیوں کو قتل کیا جو کہ اس سال دنیا بھر میں قتل ہونے والے صحافیوں کے مجموعی اعداد و شمار کا 43 فیصد بنتا ہے۔

غزہ کی سرزمین اس وقت انسانی المیے کی ایسی گواہ بن چکی ہے جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ جنگ بندی کے اعلان کو دو ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر جس امن کی امید اس وقفے سے وابستہ کی گئی تھی وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید دھندلا رہا ہے۔ حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ جنگ کے شعلوں سے بچ کر خیموں میں پناہ لینے والے فلسطینی اب بارش، سردی، بیماری اور بھوک کے دوسرے جہنم میں دھکیل دیے گئے ہیں۔ المواصی جیسے نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں میں بارش کا پانی خیموں میں داخل ہو چکا ہے، جس نے نہ صرف رہائش کو ناممکن بنا دیا ہے بلکہ خوراک اور ادویات کی بچی کھچی فراہمی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ غزہ کے لاکھوں بے گھر افراد کے لیے یہ موسم محض ایک موسمی تبدیلی نہیں بلکہ موت کا دوسرا چہرہ بن کر ابھرا ہے۔ شدید سردی، آلودہ پانی، دلدلی زمین، بیماریوں کے تیز رفتار پھیلاؤ اور خوراک کی کمی نے انسانی بحران کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ عالمی ادارے اسے ’’ ناقابلِ تصور‘‘ اور ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

 جنگ بندی کے دعوئوں کے باوجود اسرائیلی فوج کی کارروائیاں رکی نہیں۔ معاہدے کے 62 ویں دن بھی مزید چار فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا، اور مجموعی طور پر اس وقفے کے دوران 386 سے زیادہ افراد اپنی جان سے گئے۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ جس چیز کو جنگ بندی کہا جا رہا ہے وہ در حقیقت ایک خطرناک فریب ہے۔ ہتھیاروں کی آواز بظاہر دھیمی پڑی ہے مگر فلسطینیوں کی قبروں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دنیا کی اخلاقی ذمے داری ہے کہ وہ اس تضاد کو سمجھے اور اسے ایک ’’سیاسی اصطلاح‘‘ کے بجائے ’’انسانی تباہی‘‘ کے تناظر میں دیکھے۔دراصل فلسطینیوں کی زندگیوں کا معاملہ عالمی سیاست کے بڑے کھیل میں ایک قابلِ استعمال مہرے سے زیادہ کچھ نہیں۔

اقوامِ متحدہ میں امریکا کی سفیر کا یہ کہنا کہ ’’ٹرمپ کی سربراہی میں امن کونسل معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی‘‘ دراصل ایک ایسا بیان ہے جس کی بنیاد پر کوئی فریق بھی حقیقی اطمینان محسوس نہیں کر سکتا۔ پچھلے کئی عشروں نے ثابت کردیا ہے کہ امریکا کی ’’نگرانی‘‘ اکثر طاقت کے پلڑے کو مزید جھکا دیتی ہے، نہ کہ انصاف کے توازن کو۔ عالمی برادری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن صرف نعرے اور بریفنگ کی زبان میں قائم نہیں ہوتا، بلکہ عملی غیر جانب داری اور انسانی وقار کی پاسداری سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔اسی پس منظر میں اسرائیل نہ صرف جنگ کے قوانین بلکہ اطلاعات کی آزادی اور صحافت کے بنیادی اصولوں کو بھی مسلسل پامال کر رہا ہے۔

یہ حقیقت بھی انتہائی تشویش ناک ہے کہ غزہ پر اسرائیلی یلغار کے آغاز یعنی اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 220 صحافی قتل کیے جا چکے ہیں۔ یہ مسلسل تیسرا سال ہے جب اسرائیل دنیا کے لیے سب سے خطرناک ملک ثابت ہوا ہے، جہاں صحافیوں کا قتل محض ’’حادثہ‘‘ نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کی صورت میں نظر آتا ہے۔ عالمی میڈیا اور حقوقِ انسانی کی تنظیمیں بارہا یہ مطالبہ کر چکی ہیں کہ صحافیوں کو جنگی نشانہ بنانے کو جنگی جرم قرار دیا جائے۔ مگر بدقسمتی سے طاقتور ملکوں کے سیاسی مفادات نے ہمیشہ انصاف کی راہ میں دیوار بن کر کھڑے رہنے کا کردار ادا کیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے قتل پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرایا جانا ضروری ہے، اگر دنیا اس قتلِ حقیقت پر بھی خاموش رہے تو آنے والی نسلیں اس عصر کو ایک ایسے دور کے طور پر یاد کریں گی جہاں طاقت نے سچ کو شکست دینے کی کوشش کی اور دنیا نے تماشائی بن کر یہ ظلم دیکھا۔

غزہ کے اسپتالوں اور رہائشی علاقوں پر حملے محض عسکری تنصیبات ’’سمجھنے‘‘ کی غلطی نہیں بلکہ گہری منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں۔ آر ایس ایف کی رپورٹ کے مطابق رواں سال 25 اگست کو جنوبی غزہ کے ایک اسپتال پر کیا جانے والا حملہ ’’سب سے خوفناک واقعہ‘‘ تھا جس میں پانچ صحافی ایک ہی دن میں جاں بحق ہوگئے۔ اس تمام منظر نامے میں اسرائیل کی جانب سے مسلسل یہ دعوے بھی کیے جا رہے ہیں کہ ’’حماس کو غیر مسلح کیا جائے گا۔‘‘ مگر حقیقت یہ ہے کہ جنگی جرائم، محاصروں، بھوک، بیماری اور مسموم حالات نے جس نسل کی پرورش کی ہے، وہ ہتھیاروں سے زیادہ مظلومیت کی تاریخ رکھتی ہے۔ دنیا کی طاقتیں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مزاحمت کا خاتمہ بمباری سے نہیں بلکہ انصاف سے ہوتا ہے۔ اور جب انصاف مسلسل غیر حاضر ہو تو مزاحمت نہ ختم ہوتی ہے نہ اس کی مثالیں مٹتی ہیں۔

غزہ کی موجودہ نسل نے اپنی زندگی صرف بمباری، محاصروں، بھوک، خوف اور بے گھر ہونے میں گزاری ہے۔ وہ دنیا کی ان پالیسیوں کو اچھی طرح سمجھتی ہے جن میں طاقتور ملکوں کے سیاسی اور معاشی مفادات انسانی زندگی سے زیادہ اہم ہیں۔ جب ایک پوری نسل اپنے اردگرد صرف ملبہ، جنازے اور ظلم دیکھتی ہے تو وہ بے حسی کا شکار نہیں ہوتی بلکہ اپنی شناخت دوبارہ تعمیر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی نوجوان مزاحمت کی نئی شکلیں اختیار کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت عالمی برادری کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کہ ظلم کے خلاف مزاحمت صرف اسلحہ نہیں بلکہ شعور، کلمہ سچ اور مسلسل جدوجہد سے بھی پروان چڑھتی ہے۔

دنیا کی تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں انسانی ضمیر کا امتحان لیا گیا، مگر گزشتہ برسوں میں اور بالخصوص حالیہ مہینوں میں غزہ میں جاری تباہی نے اس امتحان کو ایک ایسے موڑ پر پہنچا دیا ہے جہاں اب خاموشی بھی جرم ہے اور لاتعلقی بھی ظلم کا ساتھ تصور ہوتی ہے۔ غزہ کے بچے، عورتیں، مرد، صحافی، معلم، ڈاکٹر اور عام شہری مسلسل بمباری، محاصرے، بھوک، پیاس اور بے گھر ہونے کے اذیت ناک مراحل سے گزر رہے ہیں۔ مگر اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ظلم کا شکار صرف انسان نہیں بلکہ سچائی، انصاف، صحافت اور عالمی ضمیر بھی اس بربریت کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔غزہ کا مسئلہ محض فلسطینیوں تک محدود نہیں، یہ وہ آئینہ ہے جس میں پوری دنیا کی اخلاقی سمت، سیاسی ترجیحات اور انسانی قدریں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔ روزانہ مرنے والے بچوں کا سوال صرف فلسطین کا سوال نہیں، بلکہ یہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر کا سوال ہے۔

کیا دنیا اپنی آنکھوں کے سامنے انسانیت کے قتلِ عام پر خاموش رہے گی؟ کیا عالمی ادارے، اقوامِ متحدہ سے لے کر انسانی حقوق کی تنظیموں تک، اپنی بے بسی یا بے عملی کو ’’غیر جانبداری‘‘ کا نام دیتے رہیں گے؟ یا پھر دنیا قومیت، نسل، مذہب اور جغرافیے سے بالاتر ہو کر انسان کی بنیادی حرمت کو مقدم رکھے گی؟

غزہ کا مسئلہ سب سے پہلے انصاف کا مسئلہ ہے۔ انصاف کا اصول یہ ہے کہ طاقتور اور کمزور دونوں کو یکساں حق دیا جائے، مگر زمین پر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دنیا کا نظام اُس وقت تلخ سچائی بیان کرتا ہے جب عالمی عدالتیں صرف کمزور ممالک یا غیر ہم نوا ریاستوں کے خلاف تو سرگرم دکھائی دیتی ہیں، مگر جب ایک ایسی طاقت ظلم ڈھائے جو بڑی قوتوں کی حلیف ہو، اُس کے خلاف زبانیں گنگ اور قلم مفلوج ہوجاتے ہیں۔ غزہ میں لاکھوں انسانوں کو اجتماعی سزا دینا، بنیادی ضرورتوں کا محاصرہ، پانی اور خوراک کی بندش، اسپتالوں کی تباہی، پناہ گاہوں پر حملے، یہ سب کچھ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزیاں ہیں، مگر انصاف کے علمبردار اداروں کی خاموشی خود ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

یہ معاملہ انسانیت کا بھی ہے۔ دنیا میں اگر کہیں بھی کوئی بچہ بھوک سے مرتا ہے، کوئی عورت ملبے تلے سسک رہی ہے، کوئی بیمار دوا کے بغیر جان دے رہا ہے، تو انسانیت کا دعویٰ رکھنے والی دنیا کو اُس کا دکھ محسوس کرنا چاہیے، لیکن غزہ کے معاملے میں دنیا کی اکثریت نے بچوں کی چیخوں کو پس منظر کا شور سمجھ کر نظر انداز کردیا۔ بعض ممالک نے تو یہ بے حسی اختیار کی کہ جنگی مشینری کو مزید ایندھن فراہم کرنے لگے۔ انسانیت کی حرمت کا تقاضا تھا کہ دنیا متحد ہو کر ظلم کو روکتی، مگر افسوس کہ اکثر طاقتیں سیاسی مفادات کی غلام بن کر رہ گئیں۔

غزہ کا مسئلہ صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں، یہ انصاف، انسانیت، صحافت، سچائی اور عالمی امن کا مسئلہ ہے۔ دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس طرف کھڑی ہے۔ مظلوم کے ساتھ یا طاقت کے نشے میں بدمست جارحیت کے ساتھ؟ اگر عالمی ضمیر نے اب بھی جاگنے سے انکار کیا تو تاریخ کے صفحات پر اس دور کی قیادت کے لیے صرف ایک ہی جملہ لکھا جائے گا:’’انھوں نے ظلم دیکھا، مگر خاموش رہے۔‘‘
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ سے زیادہ کا مسئلہ کے ساتھ دنیا کی رہے ہیں کے لیے ہیں کہ رہا ہے غزہ کے دیا ہے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی