الیکشن ٹریبونل نے مریم نواز کی کامیابی کے خلاف انتخابی عذرداری پر فیصلہ سنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
الیکشن ٹربیونل نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف دائر انتخابی عذرداری کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردیا۔
جسٹس رانا زاہد محمود کی سربراہی میں ٹربیونل نے پی پی 159 سے متعلق پی ٹی آئی امیدوار مہر شرافت علی کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست میں الیکشن ایکٹ 2017 کے رول 144 کی شرائط پوری نہیں کی گئیں، کیونکہ عذرداری کے تمام صفحات پر امیدوار کے دستخط موجود نہیں تھے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق بیانِ حلفی میں اوتھ کمشنر کی تصدیق والے صفحے پر نام اور والد کا نام درج نہ ہونے کے باعث یہ درخواست سماعت کے قابل نہیں۔
واضح رہے کہ مہر شرافت علی نے عام انتخابات میں مریم نواز کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انتخابی عذرداری درخواست خارج مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: درخواست خارج مریم نواز وی نیوز مریم نواز
پڑھیں:
امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
بھارتی ریاست کیرالہ(Kerala) سے ایک غیر معمولی اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شخص کو سرکاری نوکری کا تقرری نامہ امتحان دینے کے 21 سال بعد جاری کیا گیا، تاہم اس وقت تک وہ عمر کی قانونی حد عبور کر چکا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالمجید نے 2005 میں جونیئر عربی ٹیچر کی آسامی کے لیے امتحان دیا تھا۔ وہ اس امتحان میں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں بھی شامل تھے، تاہم اس وقت انہیں تقرری نہیں مل سکی۔ سرکاری فہرست کی مدت تین سال تھی جو 2008 میں ختم ہو گئی، مگر اس دوران خالی آسامی کو پر نہیں کیا جا سکا۔
طویل عرصے تک معاملہ التوا میں رہنے کے بعد 24 اپریل 2026 کو اچانک عبدالمجید کو تقرری نامہ جاری کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ اس وقت تک ان کی عمر 60 سال ہو چکی تھی، اس لیے وہ سرکاری ملازمت کے لیے قانونی طور پر اہل نہیں رہے اور ملازمت سنبھال نہیں سکے۔
یہ صورتحال نہ صرف ایک فرد کے لیے مایوسی کا باعث بنی بلکہ سرکاری نظام کی سست روی اور انتظامی تاخیر پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عبدالمجید کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بروقت تقرری مل جاتی تو وہ برسوں پہلے اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہوتے اور ان کا کیریئر مختلف ہوتا۔
مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
مزید دلچسپ اور متنازع پہلو اس وقت سامنے آیا جب ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تاریخ پیدائش 27 مئی 1966 درج ہے، جبکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی اصل تاریخ پیدائش 27 مئی 1967 ہے۔ ان کے مطابق اگر سرکاری ریکارڈ میں ایک سال کی درستگی کر دی جائے تو وہ اب بھی ملازمت کے اہل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس حوالے سے ریاستی وزیر تعلیم اور قانونی ماہرین کو باضابطہ درخواستیں بھی جمع کروائی ہیں، جن میں انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے سرکاری نظام میں طویل تاخیر اور انتظامی ناکامی پر تنقید کی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے متاثرہ شخص سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔