’میں نہیں سمجھتا کہ وہ مجھ سے بہتر ہیں‘، رونالڈو میسی کے دعوے پر بول پڑے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
فٹبال کی دنیا میں ایک بار پھر بحث چِھڑ گئی ہے، جب کرسٹیانو رونالڈو نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ لیونیل میسی کو تاریخ کا بہترین فٹبالر نہیں مانتے۔
ایک انٹرویو کے دوران جب رونالڈو سے پوچھا گیا کہ کیا وہ میسی کو گوٹ مانتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا،’میسی مجھ سے بہتر ہے؟ میں اس رائے سے اتفاق نہیں کرتا۔ میں عاجزی نہیں دکھانا چاہتا۔‘
یہ بھی پڑھیں: کرسٹیانو رونالڈو بمقابلہ لیونل میسی: کس کی مارکیٹ ویلیو زیادہ؟
انٹرویو میں وین رونی کے اس بیان کا بھی ذکر ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میسی، رونالڈو سے بہتر ہیں۔ بعد ازاں رونی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ صرف ذاتی رائے تھی، کوئی دشمنی نہیں۔
وین رونی کا کہنا ہے کہ ’لوگ سمجھتے ہیں کہ میں رونالڈو سے نفرت کرتا ہوں۔ میں ایسا نہیں ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک شاندار کھلاڑی ہے اور جو کچھ وہ کر رہا ہے وہ ناقابلِ یقین ہے۔‘
رونالڈو نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ’اس بات سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: کرسٹیانو رونالڈو ایک بار پھر دنیا کے سب سے زیادہ کمانے والے فٹبالر قرار
واضح رہے کہ رونی اور رونالڈو نے 2004 سے 2009 تک مانچسٹر یونائیٹڈ میں ایک ساتھ کھیلتے ہوئے یادگار کارکردگی دکھائی۔
40 سال کی عمر کا ہندسہ چھونے کے باوجود رونالڈو اب بھی فٹبال میں غیر معمولی تسلسل دکھا رہے ہیں اور ان کا ہدف تاریخ میں پہلی بار ایک ہزار کیریئر گول مکمل کرنے کا ہے۔ موجودہ سیزن (2025-26) میں وہ اب تک النصر کے لیے 10 میچز میں 9 گول کر چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ارجنٹینا رونالڈو فٹ بال وین رونی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ارجنٹینا رونالڈو فٹ بال وین رونی
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :