غزہ کا سیاسی و انتظامی نظام فلسطینی اتھارٹی کے ہاتھ میں ہونا چاہیے: استنبول اجلاس کا اعلامیہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
ترکیہ کے شہر استنبول میں ترکیہ، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس کے مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ کا نظم و نسق فلسطینیوں کے ہاتھ میں دیا جائے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ غزہ کا انتظام فلسطینی عوام کے حوالے کیا جائے اور اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی مکمل پاسداری کرے اور انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں دور کرے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل غزہ امن معاہدے کے تحت امداد پہنچانے نہیں دے رہا، اقوام متحدہ
اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ غزہ میں کم از کم 600 امدادی ٹرک اور 50 ایندھن کی گاڑیاں بغیر کسی تاخیر کے داخل کی جائیں۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 along with other Arab-Islamic Foreign Ministers, deliberated on the way forward for a lasting ceasefire and sustainable peace in Gaza.
The leaders jointly called for urgent humanitarian aid for the… pic.twitter.com/sPG2sz1uXm
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 3, 2025
مشترکہ اعلامیہ میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ان کی قومی نمائندگی کے احترام کو ضروری قرار دیا گیا ہے، اور کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے غزہ کا سیاسی و انتظامی نظام فلسطینی اتھارٹی کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، نہ کہ بیرونی قوتوں کے زیرِ انتظام ہو۔
اعلامیہ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ غزہ میں ایک غیر جانبدار فورس تشکیل دی جائے جو امن کی نگرانی کرے اور انسانی امداد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
اجلاس میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود حملے جاری رکھنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے جنگ بندی کے بعد بھی حملوں میں قریباً 250 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ غزہ میں بین الاقوامی فورسز کی تعیناتی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ پر کام جاری ہے اور اس فریم ورک کی تکمیل کے بعد ہی افواج کی تعیناتی کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ استنبول اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی، اور پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
مزید پڑھیں: غزہ امن سربراہ اجلاس: صدر ٹرمپ سے وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات، گرمجوشی سے مصافحہ
اس سے قبل غزہ میں جنگ بندی کے لیے ثالث ملکوں نے معاہدے پر دستخط کیے تھے، تاہم اسرائیل کی جانب سے اس کے باوجود غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ جس کی پاکستان نے مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews استنبول اجلاس ٹرمپ امن منصوبہ غزہ انتظام فلسطینی اتھارٹی وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استنبول اجلاس فلسطینی اتھارٹی وی نیوز مطالبہ کیا کیا گیا کہا گیا غزہ کا کے لیے گیا ہے کہ غزہ گیا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔