افغانستان کے ہندوکش خطے میں 6.3 شدت کا زلزلہ، 7 افراد جاں بحق، 150 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
کابل: افغانستان کے ہندوکش پہاڑی خطے میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس سے کئی مکانات زمین بوس ہوگئے، 7 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6.3 اور گہرائی 28 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی، جب کہ مرکز صوبہ سمنگان کے ضلع خُلم سے تقریباً 22 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق زلزلے کے جھٹکے مزار شریف، قندوز، بلخ اور تخار سمیت شمالی افغانستان کے کئی شہروں میں محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے وقت شہری خوفزدہ ہوکر گھروں سے باہر نکل آئے اور کئی علاقوں میں رات بھر کھلے میدانوں میں رہے۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زلزلے کے باعث درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق زلزلے کے اثرات تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان اور ایران میں بھی محسوس کیے گئے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں رواں سال 31 اگست کو 6.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق زلزلے زلزلے کے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک