WE News:
2026-06-02@23:25:22 GMT

عدلیہ اور آئینی ترمیم: اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

مجوزہ آئینی ترمیم میں عدلیہ کے بارے میں اصلاح احوال کی تجاویز دیکھیں تو شعیب بن عزیز یاد آ گئے :

اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

جوڈیشل ایکٹوزم نے اس ملک میں اب تک پارلیمان کے ساتھ جو ’حسن سلوک‘ فرمایا، اس پر پارلیمان کا جواب آں غزل کسی نہ کسی دن آنا ہی تھا، وہ اگر 27  ویں ترمیم کی شکل میں آ گیا ہےتو اس پر کم از کم مجھے کوئی حیرت نہیں ہے۔

جوڈیشل ایکٹوزم پارلیمان کے بارے میں مسلسل مطلع کہے جا رہا تھا ۔ اب ظاہر ہے غزل تب ہی مکمل ہونی تھی جب کوئی اٹھتا اور جواب میں مقطع کہہ دیتا۔ پارلیمان نےیہی کام کیا ہے ۔ نیا طرز مصرع آنے تک غزل مکمل سمجھی جائے۔ چاہے تو اب شمعیں گل کر دیجیے ، اور جی میں آئے تو مکرر مکررکی صدا اٹھائیے ۔

اس معاملے کو چند سادہ سی مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔

پارلیمان ہی ہے جو آئین بناتی ہے ۔ آئین کے آرٹیکل 239 کی ذیلی دفعہ 5 میں لکھا ہے : ” آئین میں کی گئی کسی بھی ترمیم کو ، کسی بھی بنیاد پر ، کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جائے گا”۔ اسی آرٹیکل میں ذیلی دفعہ 6 میں ایک بار پھر لکھا گیا ہے کہ :” شک و شبہ کے ازالے کے لیے یہ واضح طور پر قرار دیا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ کو آئین کی کسی بھی شق میں ترمیم کرنے کے اختیار پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔”

اس قدر واضح آئینی ہدایت کے باوجود ہمارے ہاں ہوتا یہ آیا ہے کہ پارلیمان دو تہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کرتی اور اسے عدالت میں چیلنج کر دیا جاتا اور عدالت اس کی سماعت بھی شروع کر دیتی ۔ اس وقت بھی 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سماعت عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس کے باوجود زیر سماعت ہے کہ آئین میں اس کی سرے سے کوئی گنجائش ہی موجود نہیں۔

 عدالت کے پاس یہ اختیار تو موجود ہے کہ وہ کسی بھی قانون کو دیکھے کہ کیا یہ آئین میں دیے گئے اصولوں کے مطبق ہے یا ان سے متصادم ہے لیکن پاکستان کی کوئی بھی عدالت آئینی ترمیم کے خلاف کسی درخواست کی سماعت نہیں کر سکتی۔ آئین نے اس سے واضح طور پر روک دیا ہے۔ آئین کے بنیادی ڈھانچے کی فرضی اختراع بھی آئین شکنی کا جواز نہیں بن سکتی۔

لیکن  عدالتوں میں پھر بھی سماعتیں ہوتی آئی ہیں جو آئین کے آرٹیکل 239 کی خلاف ورزی ہے اور اس پر پارلیمان چاہے تو متعلقہ جج صاحبان کے خلاف ریفرنس بھی بھیجا جا سکتا ہے اور بات ریفرنس سے آگے بھی جا سکتی ہے کیونکہ چند سال پہلے آرٹیکل 6 میں ترمیم کے بعد اب آئینی پوزیشن یہ ہے کہ آئین  شکنی کا مقدمہ جج صاحبان پر بھی قائم ہو سکتا ہے۔ کمزور پارلیمان اگر اب تک ایسا کچھ نہیں کر سکی تو ضروری نہیں وہ ہمیشہ ایسی ہی کمزور رہے۔

عدالت آئین کی شرح ضرور کر سکتی ہے لیکن آئین کی واضح شق کے خلاف جانا ، شرح نہیں ہے۔ یہ آئین سے انحراف ہے۔ آئین کی تشریح کا ہر گز  یہ مطلب نہیں کہ چیف جسٹس صاحب کوئی ہم خیال بنچ بنا کر آئین ہی کو ری  رائٹ کر دیں یا آئین میں اپنی خواہشات کو شرح کا نام دے کر شامل کر دیا جائے ۔ نواز شریف کو نااہل کیا جائے تو تشریح فرمائی جائے کہ یہ تاحیات نا اہلی ہے اور کوئی محبوب نظر اس کی زد میں آتا دکھائی دے تو شرح فرما دی جائے کہ تاحیات نا اہلی تو مناسب بات نہیں ہے۔

ایک طرف پارلیمان ہے ، جو دو تہائی اکثریت سے آئین بناتی ہے یا اس میں ترمیم کرتی ہے اور آئین میں ممانعت کے باوجود عدالتیں اس کے خلاف درخواستیں سنتی بھی ہیں اور فیصلے بھی کرتی ہیں۔ دوسری جانب مشرف جیسے ڈکٹیٹر ہیں ، انہیں عدالت آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دے دیتی ہے۔ یعنی جو اختیار خود عدالت کے پاس نہیں ہے ، وہ اختیار عدالت نے دوسروں کو دے دیا۔

یہی نہیں بلکہ بہت سارے پارلیمنٹیرین یہ سمجھتے ہیں کہ  عدالتیں بسا اوقات آئین کی شرح تک محدود نہیں رہتیں بلکہ چند جج صاحبان بیٹھ کر تشریح کے نام پر آئین کو ری رائٹ کر دیتے ہیں اور آئین میں ایسی بات ڈال دیتے ہیں جو آئین میں ہوتی ہی نہیں۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بھی ایک طرح کی آئین شکنی نہیں۔

پارلیمان کو عملا انجمن مزارعین بنا دیا گیا تھا۔ اس کا پارلیمان میں بیٹھے لوگوں کو احساس بھی تھا مگر پارلیمان کی رواایتی کمزوری آڑے آتی رہی۔ اب آ کر جیسے ہی پارلیمان کو موقع ملا ، اس نے پہلا سلام بھجوا دیا ہے۔ آپ اس سلام محبت سے اتفاق بھی کر سکتے ہی  اور اختلاف بھی لیکن یہ طے ہے کہ یہ جواب آں غزل نوشتہ دیور تھا  ۔ یہ ایک دن  ہونا ہی ہونا تھا۔ ہو گیا ، اچھا ہو گیا، یہ البتہ وقت بتائے گا کہ یہ پارلیمان کی داخلی قوت سے ہوا یا مستعار قوت سے۔

پارلیمان نے آئین میں اعلی عدلیہ کو از خود نوٹس کا اختیار دے رکھا  تھا ۔ اب یہ اختیار واپس لے لیا۔ خس کم جہاں پاک بھلے نہ کہا جائے لیکن اس پر اللہ کا شکر ضرور ادا کرنا چاہیے۔ یہ اختیار سپرم کورٹ کو مفاد عامہ کے معاملات میں دیا گیا لیکن مفاد عامہ کے نام پر کبھی عتیقہ اوڈھو کے پرس کے معاملات پر سوموٹو لے لیا  گیا ، کبھی اسلام آباد میں سموسے مہنگے ہوئے تو سوموٹو لے لیا گیا اور کبھی چپل کباب میں گوشت کی مقداد کم محسوس ہوئی تو سوموٹو صاحب حرکت میں آ گئے۔ اختیار سپریم کورٹ کو دیا گیا تھا لیکن عملا یہ چیف جسٹس کی ذات میں سمٹ گیا ۔ اس سے کوئی خیر برآمد ہوئی ہو تو یہ اس عہد کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز ہو گی۔

ججوں کے تبادلوں کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دیا گیا ہے اور جوجج اپنا تبادلہ قبول نہیں کرے گا وہ ریٹائر تصور ہو گا۔ ہاں کسی عدالت میں اس کے چیف جسٹس سے سینیئر کوئی جج نہیں لایا جائے گا۔ تا کہ ان کا منصب محفوظ رہے۔ یہ بھی بالکل درست تجویز  ہے۔ اسلام آباد میں ہم نے دیکھا کہ اسی شہر میں  رہنے اور اسی میں ساری عمر پریکٹس کرنے والے وکلا  اسی شہر میں ہائی کورٹ میں جج بن گئے، مزید یہ کہ انہوں نے رہنا بھی یہیں ہے کہ تبادلے کی تو کوئی صورت ہی نہیں تھی۔ چنانچہ مارگلہ سے کبھی گرم ہوا بھی نیچے اترتی ہے تو بار کے عہدیداران ” آزادی عدلیہ” کے نام پر میدان میں آ جاتے ہیں تا کہ سند رہے۔

یہی معاملہ آئینی عدالت کا ہے۔ اسے سر دست یہاں زیر بحث نہیں لا رہا کیونکہ اس پر  ” وی نیوز” کے لیے الگ سے ایک تفصیلی کالم پہلے ہی  لکھ چکا ہوں۔

 اطراف میں شور مچا ہے کہ عدلیہ کی آزادی خطرے میں پڑ گئی ۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ عدلیہ میں اصلاحات نہایت ضروری ہیں اور جو ہوئی ہیں یہ ناکافی ہیں ۔ اس عمل کو جاری رہنا چاہیے۔ بہت سے مقامات آہ و فغاں ابھی باقی ہیں۔

خلیل جبران کے pity the nation سے تو آپ فیض یاب ہو ہی چکے ہیں ، اب ذرا ( غالبا) حافظ شیرازی کی بھی سن لیجیے:

به تو هر چه کردم همه از دست و بود

حال خود ببر و بکش، گناه من چیست؟

“جو کچھ میں نے تمہارے ساتھ کیا، ذمہ دار تم ہی ہو

اب بھگتو اور مزے لو، اس میں میرا کیا گناہ؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عدالت میں کے خلاف ہیں اور دیا گیا آئین کی نہیں ہے کسی بھی اور اس ہے اور

پڑھیں:

اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی  کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔ 

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم  دیدیا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی  کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔ 

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے  5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی