عدلیہ اور آئینی ترمیم: اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
مجوزہ آئینی ترمیم میں عدلیہ کے بارے میں اصلاح احوال کی تجاویز دیکھیں تو شعیب بن عزیز یاد آ گئے :
اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
جوڈیشل ایکٹوزم نے اس ملک میں اب تک پارلیمان کے ساتھ جو ’حسن سلوک‘ فرمایا، اس پر پارلیمان کا جواب آں غزل کسی نہ کسی دن آنا ہی تھا، وہ اگر 27 ویں ترمیم کی شکل میں آ گیا ہےتو اس پر کم از کم مجھے کوئی حیرت نہیں ہے۔
جوڈیشل ایکٹوزم پارلیمان کے بارے میں مسلسل مطلع کہے جا رہا تھا ۔ اب ظاہر ہے غزل تب ہی مکمل ہونی تھی جب کوئی اٹھتا اور جواب میں مقطع کہہ دیتا۔ پارلیمان نےیہی کام کیا ہے ۔ نیا طرز مصرع آنے تک غزل مکمل سمجھی جائے۔ چاہے تو اب شمعیں گل کر دیجیے ، اور جی میں آئے تو مکرر مکررکی صدا اٹھائیے ۔
اس معاملے کو چند سادہ سی مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔
پارلیمان ہی ہے جو آئین بناتی ہے ۔ آئین کے آرٹیکل 239 کی ذیلی دفعہ 5 میں لکھا ہے : ” آئین میں کی گئی کسی بھی ترمیم کو ، کسی بھی بنیاد پر ، کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جائے گا”۔ اسی آرٹیکل میں ذیلی دفعہ 6 میں ایک بار پھر لکھا گیا ہے کہ :” شک و شبہ کے ازالے کے لیے یہ واضح طور پر قرار دیا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ کو آئین کی کسی بھی شق میں ترمیم کرنے کے اختیار پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔”
اس قدر واضح آئینی ہدایت کے باوجود ہمارے ہاں ہوتا یہ آیا ہے کہ پارلیمان دو تہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کرتی اور اسے عدالت میں چیلنج کر دیا جاتا اور عدالت اس کی سماعت بھی شروع کر دیتی ۔ اس وقت بھی 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سماعت عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس کے باوجود زیر سماعت ہے کہ آئین میں اس کی سرے سے کوئی گنجائش ہی موجود نہیں۔
عدالت کے پاس یہ اختیار تو موجود ہے کہ وہ کسی بھی قانون کو دیکھے کہ کیا یہ آئین میں دیے گئے اصولوں کے مطبق ہے یا ان سے متصادم ہے لیکن پاکستان کی کوئی بھی عدالت آئینی ترمیم کے خلاف کسی درخواست کی سماعت نہیں کر سکتی۔ آئین نے اس سے واضح طور پر روک دیا ہے۔ آئین کے بنیادی ڈھانچے کی فرضی اختراع بھی آئین شکنی کا جواز نہیں بن سکتی۔
لیکن عدالتوں میں پھر بھی سماعتیں ہوتی آئی ہیں جو آئین کے آرٹیکل 239 کی خلاف ورزی ہے اور اس پر پارلیمان چاہے تو متعلقہ جج صاحبان کے خلاف ریفرنس بھی بھیجا جا سکتا ہے اور بات ریفرنس سے آگے بھی جا سکتی ہے کیونکہ چند سال پہلے آرٹیکل 6 میں ترمیم کے بعد اب آئینی پوزیشن یہ ہے کہ آئین شکنی کا مقدمہ جج صاحبان پر بھی قائم ہو سکتا ہے۔ کمزور پارلیمان اگر اب تک ایسا کچھ نہیں کر سکی تو ضروری نہیں وہ ہمیشہ ایسی ہی کمزور رہے۔
عدالت آئین کی شرح ضرور کر سکتی ہے لیکن آئین کی واضح شق کے خلاف جانا ، شرح نہیں ہے۔ یہ آئین سے انحراف ہے۔ آئین کی تشریح کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ چیف جسٹس صاحب کوئی ہم خیال بنچ بنا کر آئین ہی کو ری رائٹ کر دیں یا آئین میں اپنی خواہشات کو شرح کا نام دے کر شامل کر دیا جائے ۔ نواز شریف کو نااہل کیا جائے تو تشریح فرمائی جائے کہ یہ تاحیات نا اہلی ہے اور کوئی محبوب نظر اس کی زد میں آتا دکھائی دے تو شرح فرما دی جائے کہ تاحیات نا اہلی تو مناسب بات نہیں ہے۔
ایک طرف پارلیمان ہے ، جو دو تہائی اکثریت سے آئین بناتی ہے یا اس میں ترمیم کرتی ہے اور آئین میں ممانعت کے باوجود عدالتیں اس کے خلاف درخواستیں سنتی بھی ہیں اور فیصلے بھی کرتی ہیں۔ دوسری جانب مشرف جیسے ڈکٹیٹر ہیں ، انہیں عدالت آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دے دیتی ہے۔ یعنی جو اختیار خود عدالت کے پاس نہیں ہے ، وہ اختیار عدالت نے دوسروں کو دے دیا۔
یہی نہیں بلکہ بہت سارے پارلیمنٹیرین یہ سمجھتے ہیں کہ عدالتیں بسا اوقات آئین کی شرح تک محدود نہیں رہتیں بلکہ چند جج صاحبان بیٹھ کر تشریح کے نام پر آئین کو ری رائٹ کر دیتے ہیں اور آئین میں ایسی بات ڈال دیتے ہیں جو آئین میں ہوتی ہی نہیں۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بھی ایک طرح کی آئین شکنی نہیں۔
پارلیمان کو عملا انجمن مزارعین بنا دیا گیا تھا۔ اس کا پارلیمان میں بیٹھے لوگوں کو احساس بھی تھا مگر پارلیمان کی رواایتی کمزوری آڑے آتی رہی۔ اب آ کر جیسے ہی پارلیمان کو موقع ملا ، اس نے پہلا سلام بھجوا دیا ہے۔ آپ اس سلام محبت سے اتفاق بھی کر سکتے ہی اور اختلاف بھی لیکن یہ طے ہے کہ یہ جواب آں غزل نوشتہ دیور تھا ۔ یہ ایک دن ہونا ہی ہونا تھا۔ ہو گیا ، اچھا ہو گیا، یہ البتہ وقت بتائے گا کہ یہ پارلیمان کی داخلی قوت سے ہوا یا مستعار قوت سے۔
پارلیمان نے آئین میں اعلی عدلیہ کو از خود نوٹس کا اختیار دے رکھا تھا ۔ اب یہ اختیار واپس لے لیا۔ خس کم جہاں پاک بھلے نہ کہا جائے لیکن اس پر اللہ کا شکر ضرور ادا کرنا چاہیے۔ یہ اختیار سپرم کورٹ کو مفاد عامہ کے معاملات میں دیا گیا لیکن مفاد عامہ کے نام پر کبھی عتیقہ اوڈھو کے پرس کے معاملات پر سوموٹو لے لیا گیا ، کبھی اسلام آباد میں سموسے مہنگے ہوئے تو سوموٹو لے لیا گیا اور کبھی چپل کباب میں گوشت کی مقداد کم محسوس ہوئی تو سوموٹو صاحب حرکت میں آ گئے۔ اختیار سپریم کورٹ کو دیا گیا تھا لیکن عملا یہ چیف جسٹس کی ذات میں سمٹ گیا ۔ اس سے کوئی خیر برآمد ہوئی ہو تو یہ اس عہد کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز ہو گی۔
ججوں کے تبادلوں کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دیا گیا ہے اور جوجج اپنا تبادلہ قبول نہیں کرے گا وہ ریٹائر تصور ہو گا۔ ہاں کسی عدالت میں اس کے چیف جسٹس سے سینیئر کوئی جج نہیں لایا جائے گا۔ تا کہ ان کا منصب محفوظ رہے۔ یہ بھی بالکل درست تجویز ہے۔ اسلام آباد میں ہم نے دیکھا کہ اسی شہر میں رہنے اور اسی میں ساری عمر پریکٹس کرنے والے وکلا اسی شہر میں ہائی کورٹ میں جج بن گئے، مزید یہ کہ انہوں نے رہنا بھی یہیں ہے کہ تبادلے کی تو کوئی صورت ہی نہیں تھی۔ چنانچہ مارگلہ سے کبھی گرم ہوا بھی نیچے اترتی ہے تو بار کے عہدیداران ” آزادی عدلیہ” کے نام پر میدان میں آ جاتے ہیں تا کہ سند رہے۔
یہی معاملہ آئینی عدالت کا ہے۔ اسے سر دست یہاں زیر بحث نہیں لا رہا کیونکہ اس پر ” وی نیوز” کے لیے الگ سے ایک تفصیلی کالم پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔
اطراف میں شور مچا ہے کہ عدلیہ کی آزادی خطرے میں پڑ گئی ۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ عدلیہ میں اصلاحات نہایت ضروری ہیں اور جو ہوئی ہیں یہ ناکافی ہیں ۔ اس عمل کو جاری رہنا چاہیے۔ بہت سے مقامات آہ و فغاں ابھی باقی ہیں۔
خلیل جبران کے pity the nation سے تو آپ فیض یاب ہو ہی چکے ہیں ، اب ذرا ( غالبا) حافظ شیرازی کی بھی سن لیجیے:
به تو هر چه کردم همه از دست و بود
حال خود ببر و بکش، گناه من چیست؟
“جو کچھ میں نے تمہارے ساتھ کیا، ذمہ دار تم ہی ہو
اب بھگتو اور مزے لو، اس میں میرا کیا گناہ؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عدالت میں کے خلاف ہیں اور دیا گیا آئین کی نہیں ہے کسی بھی اور اس ہے اور
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔