جوناگڑھ پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کو 78 سال مکمل
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
ریاست جوناگڑھ کا پاکستان سے الحاق جوناگڑھ اسٹیٹ کونسل کی منظوری سے ہوا تھا، تاہم بھارتی سیاستدان سردار ولبھ بھائی پٹیل نے نواب آف جوناگڑھ پر دباؤ ڈال کر فیصلہ بدلنے پر اصرار کیا اسلام ٹائمز۔ ریاست جوناگڑھ پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کو 78 سال مکمل ہو گئے۔ 1947ء میں کئی خود مختار ریاستیں بھارت کے غیر قانونی قبضے کا شکار ہوئیں، جس میں ریاست جوناگڑھ بھی شامل تھی۔ ریاست جوناگڑھ کا پاکستان سے الحاق جوناگڑھ اسٹیٹ کونسل کی منظوری سے ہوا تھا، تاہم بھارتی سیاستدان سردار ولبھ بھائی پٹیل نے نواب آف جوناگڑھ پر دباؤ ڈال کر فیصلہ بدلنے پر اصرار کیا، بھارت کو اس پر منہ کی کھانا پڑی اور اس نے ریاست پر زبردستی غیر قانونی تسلط قائم کر لیا۔بھارتی فوج نے جوناگڑھ میں قتلِ عام، عصمت دری اور مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا۔ وزارتِ انسانی حقوق کے مطابق بھارت کی جابرانہ حکومت میں اقلیتوں پر مظالم کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔