وعدے کے مطابق ترمیمی بل پہلے سینیٹ میں لائے، منظوری پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
پارلیمنٹ کے ایوان بالا (سینیٹ) کے قائد ایوان اور نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وعدے کے مطابق بل پہلے سینیٹ میں لے کر آئے، تاریخی بل سینیٹ سے منظور ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ سابق وزرائے اعظم نواز شریف، بینظیر بھٹو سمیت تمام جماعتوں نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے۔
انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں بھی آئینی عدالت پر اتفاق کیا گیا تھا، آئینی ترامیم عدالتی نظام میں بہتری کے لیے کی گئی ہیں، موجودہ چیف جسٹس سمیت تمام ججز کی سینیارٹی برقرار رہے گی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا سینیٹ میں نمبر پورے ہیں؟ جس پر اسحاق ڈار نے کہا کہ جی انشاء اللّٰہ۔
نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ دوسری اہم ترمیم آرٹیکل 243 میں ترمیم ہے، بھارت سے حالیہ جنگ میں پاکستان نے تاریخی فتح حاصل کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ قوم نے بھارت کے ساتھ جنگ میں آرمی چیف عاصم منیر کو ہیرو قرار دیا، فیلد مارشل کا عہدہ آئین میں نہیں تھا۔
اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ وعدے کے مطابق بل پہلے سینیٹ میں لے کر آئے، تاریخی بل کے منظور ہونے پر ایوان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے وقت 2 تجاویز تھی کہ ہزارہ پختونخوا یا خیبر پختونخوا نام دیا جائے، دونوں تجاویز اے این پی کو دی گئیں، پھر صوبے کا نام خیبر پختونخوا تجویز ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے سینیٹ میں نے کہا کہ
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔