تھل جیپ ریلی میں لیگی خاتون ایم پی اے اور ڈی سی لیہ کے درمیان ڈرائی فروٹس تنازع کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
جنوبی پنجاب کے صحرائی علاقوں میں 6 سے 9 نومبر تک منعقد ہونے والی تھل جیپ ریلی 2025 کے اختتامی دنوں میں ایک غیر معمولی تنازع سامنے آیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی خاتون ایم پی اے سمعیہ عطا شہانی نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر لیہ امیرا بیدار بخت کی جانب سے ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی، جس پر پارٹی رہنماؤں نے جیپ ریلی کا بائیکاٹ کردیا۔
دوسری جانب ڈی سی لیہ نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے من گھڑت کہانی قرار دیا ہے۔
تھل جیپ ریلی کا 10واں ایڈیشن شاندار طریقے سے منعقد ہوا، جس میں 100 سے زائد مرد و خواتین ریسرز نے شرکت کی۔ ریلی کا اختتام 9 نومبر کو ہوا، جہاں پری پیئرڈ کیٹیگری میں فیصل شادی خیل نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ خواتین کی کیٹیگری میں سلمیٰ مروت نے 100 کلومیٹر ٹریک کو 1 گھنٹہ 30 منٹ 20 سیکنڈ میں مکمل کرکے کامیابی حاصل کی۔
تھل جیپ ریلی میں خواتین کی کیٹگری میں سلمیٰ مروت نے 100 کلومیٹر کا ٹریک 1گھنٹہ 30 منٹ 20 سیکنڈ میں طے کرکے کامیابی سمیٹی!!!! pic.
— Nadir Baloch (@BalochNadir5) November 9, 2025
ریلی میں ثقافتی میلہ، میوزیکل نائٹس، اونٹ ڈانس اور لوک موسیقی جیسے پروگرام بھی شامل تھے۔
وی نیوز سے خصوصی بات چیت میں مسلم لیگ (ن) کی ایم پی اے سمعیہ عطا شہانی نے بتایا کہ وہ 8 نومبر کو اپنی فیملی کے ہمراہ ریلی دیکھنے گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی سیٹیں مختص تھیں، لیکن اسٹیج پر بیٹھنے کی جگہ نہ ملنے پر انہوں نے اے ڈی سی آر شاید ملک سے کہا کہ ڈی سی صاحبہ کے صوفے پر پڑی ڈرائی فروٹس کی ٹرے سائیڈ پر رکھ دی جائے تاکہ وہ بیٹھ سکیں۔
جواب میں انہیں کہا گیا کہ ڈرائی فروٹس نہیں ہٹ سکتے کیونکہ میڈم ڈی سی ڈرائی فروٹس کے بغیر رہ نہیں سکتیں۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے سمعیہ عطا شہانی نے احتجاجاً اسٹیج چھوڑ دیا اور پارٹی کے ضلعی صدر کو معاملہ بتایا، جس پر 9 نومبر کو مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے تھل جیپ ریلی کا بائیکاٹ کردیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل ان کے بیٹے کے ساتھ بھی ڈی سی لیہ کے گارڈز نے بدتمیزی کی تھی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ یہ معاملہ پنجاب اسمبلی میں اٹھائیں گی، تحریکِ استحقاق جمع کروائیں گی اور اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کو بھی اس معاملے کے حوالے سے آگاہ کرچکی ہیں۔
دوسری جانب ڈی سی لیہ امیرا بیدار بخت نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لیگی ایم پی اے سمعیہ عطا شہانی کے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کیا اور کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور نہ ہی کوئی خاتون ایم پی اے میرے پاس آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک من گھڑت کہانی بنا کر پیش کی جارہی ہے اور لیگی ایم پی اے کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تھل جیپ ریلی جنوبی پنجاب کا بڑا ایونٹ ہے، مسلم لیگ (ن) کے رہنما پہلے دن بھی اسٹیج پر موجود تھے اور آخری دن بھی۔ سب لیڈران کی عزت کی جاتی ہے اور بیٹھنے کے مکمل انتظامات کیے گئے تھے۔
ڈرائی فروٹس کی ٹرے والی بات کو غلط قرار دیتے ہوئے ڈی سی صاحبہ نے کہا کہ اگر بیٹھنے کا کوئی ایشو ہوتا تو وہ خود معاملہ حل کروا دیتیں بلکہ اگر ایسی کوئی بات تھی تو انہیں مجھے بتانا چاہیے تھا، میں ان کے بیٹھنے کا مسئلہ حل کروا دیتی۔
سوشل میڈیا پر اپنی خواتین سیکیورٹی گارڈز والی تصویر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ خاتون ہونے کی وجہ سے خواتین سیکیورٹی رکھتی ہیں اور ان کے خلاف سوشل میڈیا پر بہودہ مہم چلائی جا رہی ہے۔
یہ تنازع سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، جہاں کچھ لوگ ڈی سی صاحبہ کی سیکیورٹی کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں۔ تاہم اب تک پنجاب حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سمعیہ عطا شہانی ڈرائی فروٹس ایم پی اے ڈی سی لیہ مسلم لیگ انہوں نے ریلی کا کہا کہ
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :