وزیر قانون نے 27ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
27ویں آئینی ترمیم کا بل ہفتے کے روز سینیٹ میں پیش کیا گیا، جس کے بعد اسے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے حوالے کر دیا گیا۔ اس بل کے مسودے کی منظوری چند گھنٹے پہلے وفاقی کابینہ نے دی تھی۔
سینیٹ اجلاس کا آغاز کچھ تاخیر سے دوپہر سوا ایک بجے ہوا، اور وفاقی وزیر قانون، اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں سوال و جواب کے سیشن اور دیگر کارروائی معطل کرنے کی درخواست کی تاکہ وہ سینیٹرز کو ترمیم سے آگاہ کر سکیں۔ وزیر قانون نے بل ایوان میں پیش کیا، جس پر چیئرمین سینیٹ، یوسف رضا گیلانی نے اس کی تفصیلی جانچ کے لیے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ایوان میں پیش کیا گیا بل قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا، تاکہ وہ اس پر تفصیلی غور کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اراکین کو بھی کمیٹی میں مدعو کیا جائے تاکہ وہ اس عمل میں شریک ہو سکیں اور اپنی تجاویز دے سکیں۔ دونوں کمیٹیاں مشترکہ اجلاس کر کے اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کریں گی۔
اس دوران، پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے اس بات پر اعتراض کیا کہ اپوزیشن لیڈر کی نشست خالی ہونے کی وجہ سے آئینی ترمیم پر بحث کرنا مناسب نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور اتحادی جماعتیں بل کو جلد بازی میں منظور کرانا چاہتی ہیں۔ علی ظفر نے تجویز دی کہ بل کو کمیٹی میں بھیجنے کی بجائے پورے سینیٹ کو ہی کمیٹی سمجھا جائے تاکہ تمام اراکین بحث میں شریک ہو سکیں، کیونکہ اپوزیشن کو آج ہی بل کا مسودہ ملا ہے اور وہ ابھی تک اس کا جائزہ نہیں لے پائی۔
وزیر قانون نے بتایا کہ اس بل میں کل 49 شقیں شامل ہیں، جن میں 3 بنیادی اور 2 ضمنی شعبے ہیں، یعنی یہ ترمیم مجموعی طور پر 5 اہم نکات پر اثر انداز ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ 2006 میں دستخط شدہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق ہوا تھا، جو تمام صوبوں کے اعلیٰ ججوں پر مشتمل ہوگی اور صرف آئینی مسائل سنے گی، جب کہ دیگر عدالتیں باقی مقدمات کی سماعت جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم پر مشاورت کے دوران کچھ حلقوں نے تجویز دی تھی کہ اتنی بڑی تبدیلی کی بجائے “آئینی بینچ” تشکیل دی جائے، اور بعد میں ایسے بینچ بھی بنائے گئے، لیکن جج زیادہ تر وقت انہی مقدمات میں مصروف رہے، اور ان مقدمات نے عدالت کے وقت کا تقریباً 40 فیصد حصہ لے لیا۔
وزیر قانون نے بتایا کہ تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی آئینی عدالت کا قیام پارلیمنٹ کے ذریعے کیا جائے گا، جو اس بل میں شامل ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ ججز کی منتقلی سے متعلق ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ 1973 کے آئین میں صدر کو وزیراعظم کے مشورے سے ججوں کی منتقلی کا اختیار دیا گیا تھا، تاہم 18ویں ترمیم کے تحت یہ اختیار ختم کر دیا گیا اور ججز کی منتقلی کے لیے ان کی رضامندی ضروری قرار دی گئی۔ اس کے بعد 26ویں ترمیم میں یہ شرط برقرار رکھی گئی، مگر ایگزیکٹو کی مداخلت پر اعتراضات اٹھے۔ اب تجویز ہے کہ وزیراعظم کے مشورے کی شق کو ختم کر کے یہ معاملہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کے حوالے کر دیا جائے، جس میں یہ حفاظتی شق بھی شامل ہوگی کہ چیف جسٹس سے زیادہ سینئر جج کو کسی دوسری ہائی کورٹ میں منتقل نہیں کیا جا سکے گا تاکہ تنازعہ سے بچا جا سکے۔
وزیر قانون نے مزید کہا کہ سینیٹ کے انتخابات میں تاخیر کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں انتخابات ایک سال سے زائد وقت کے لیے مؤخر ہوئے۔ اس لیے ایک نئی شق شامل کی گئی ہے تاکہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب پر کوئی تنازعہ پیدا نہ ہو۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی کابینہ کی 11 فیصد حد بڑھا کر 13 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، کیونکہ پنجاب کے سوا باقی تمام صوبوں نے اس پر اعتراض کیا تھا۔ اس کے علاوہ، صوبائی مشیروں کی تعداد 5 سے بڑھا کر 7 کر دی گئی ہے۔
آرٹیکل 243 کے حوالے سے وزیر قانون نے کہا کہ اس میں نئی شقیں شامل کی جا رہی ہیں۔ اس آرٹیکل کے تحت وفاقی حکومت کو مسلح افواج پر اختیار حاصل ہوتا ہے، اور اس میں تبدیلیوں کی تجویز کی گئی ہے۔
وزیر قانون نے آرمڈ فورسز کے سربراہ، جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزازی خطاب دینے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی عہدہ یا رینک نہیں ہے، بلکہ عالمی سطح پر قومی ہیروز کو دیے جانے والے اعزازات میں سے ایک ہے۔ اس خطاب کی منسوخی کا اختیار وزیرِ اعظم کے پاس نہیں ہوگا بلکہ پارلیمنٹ کے پاس ہوگا۔ مزید یہ کہ 27 نومبر 2025 سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا، اور اس کے بعد اس عہدے پر کوئی نیا تقرر نہیں کیا جائے گا، کیونکہ آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا کردار سونپا جائے گا۔
آخر میں، وزیر قانون نے کہا کہ بل کو پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے حوالے کر دیا جائے گا، اور کمیٹی میں تمام متعلقہ اراکین کو مدعو کیا جائے گا تاکہ اس پر تفصیلی مشاورت کی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قانون و انصاف قائمہ کمیٹی کیا جائے گا ایوان میں نے کہا کہ انہوں نے کے حوالے میں پیش گئی ہے کیا جا کے بعد کر دیا
پڑھیں:
ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ چاہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لیے یہ ملنے نہیں دے رہے، مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو کم از کم فیملی کو ملنے دیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ جس دن بانی پی ٹی آئی محمود اچکزئی سےمطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہوگا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو بدل نہیں سکتی۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیراعلیٰ رہوں گا، کے پی میں ہماری حکومت فقط بانی چیئرمین ہی ختم کرسکتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ کے پی میں فارورڈ بلاک پروپیگنڈا ہے، جو اس لیے کیا گیا کہ وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کرالیا ہے، ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، کے پی حکومت عوام دوست بجٹ پیش کرے گی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہمارا سارا فوکس صحت، تعلیم، زراعت، نوجوان اور جنگلات پر ہے، ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لارہے ہیں۔