شاہد آفریدی کون ہیں؟ میں نہیں جانتا، حکم شہزاد لوہا پاڑ کی نئی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
معروف ٹک ٹاکر اور حکیم شہزاد لوہا پاڑ نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ کے دوران کہا ہے کہ وہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کو نہیں جانتے، البتہ ان کا نام سنا سنا لگتا ہے۔
پوڈکاسٹ میں میزبان کی جانب سے جب ان سے شاہد آفریدی سے متعلق سوال کیا گیا تو حکیم شہزاد کا کہنا تھا کہ ’میں شاہد آفریدی کو نہیں جانتا، مگر ان کا نام سنا سنا سا لگتا ہے‘۔ تاہم اگلے ہی لمحے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ نام تو میں پہلی بار سن رہا ہوں‘۔
میزبان نے بعدازاں انہیں ایک ویڈیو دکھائی جس میں وہ خود شاہد آفریدی کے حوالے سے گفتگو کرتے نظر آ رہے تھے۔ اس پر حکیم شہزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ویڈیو جعلی ہے اور ٹیمپرڈ کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکیم شہزاد لوہا پاڑ کو میڈل دینا گورنر خیبر پختونخوا کو مہنگا پڑگیا، سوشل میڈیا پر تنقید
اسی پوڈکاسٹ میں جب میزبان ریحان طارق نے ان سے اداکارہ حبا بخاری کے بارے میں پوچھا تو حکیم شہزاد نے کہا کہ وہ انہیں بھی نہیں جانتے۔ میزبان نے یاد دلایا کہ ایک وائرل ویڈیو میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ حبا بخاری ان کی دی ہوئی دوا استعمال کرنے کے بعد اُمید سے ہوئیں، جس پر حکیم شہزاد نے پھر سے کہا کہ وہ ویڈیو بھی ٹیمپرڈ ہے اور ان کی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شوہر کا پانچواں نکاح کرانے جا رہی ہوں، دانیہ شاہ کی ویڈیو وائرل
میزبان نے حکیم شہزاد کو چند دوائیوں کے نام بتائے اور کہا کہ یہ ان کی ویب سائٹ سے لی گئی ہیں جس پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ویب سائٹ میری نہیں ہے اور میں نے نہیں جانتا یہ کس کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ویب سائٹ کے خلاف میں نے ایف آئی اے میں پرچہ کٹوایا ہوا ہے۔
انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی جس میں حکیم شہزاد نے الزام عائد کیا کہ ریحان طارق نے پوڈکاسٹ کے لیے انہیں پچاس لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر انٹرویو کے بعد ادائیگی سے انکار کر دیا۔ حکیم شہزاد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر ہائی کورٹ ملتان سے رجوع کر لیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حبا بخاری حکیم شہزاد انٹرویو حیم شہزاد لوہا پاڑ دانیہ شاہ ریحان طارق شاہد آفریدی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حکیم شہزاد انٹرویو حیم شہزاد لوہا پاڑ دانیہ شاہ شاہد ا فریدی شہزاد لوہا پاڑ حکیم شہزاد نے شاہد آفریدی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا
نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔
فیچر کیسے کام کرتا ہے؟صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔
مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا
ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔
ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔
مختلف ڈسپلے موڈزنئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔
پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔
اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔
مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش
فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔
گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔
صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔
بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختمایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔
صارفین کا ردعملفیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔
تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ
ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر