نریندر مودی کو صرف الیکشن سے مطلب ہے، ملکارجن کھڑگے
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
کانگریس صدر نے راہل گاندھی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے مسائل کو نہ صرف سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اسکا حل بھی تلاش کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ راہل گاندھی عوام سے ملاقات کرتے ہیں، ان کے درمیان جاتے ہیں، حال ہی میں انہوں نے مکیش سہنی کے ساتھ ماہی گیروں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی جیسی مثال ملک میں کہیں دوسری نہیں ہے۔ یہ بیان کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بہار کے گیا ٹاؤن میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے راہل گاندھی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے مسائل کو نہ صرف سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ اس کا حل بھی تلاش کرتے ہیں۔ ملکارجن کھڑگے نے وزیراعظم نریندر مودی کو راہل گاندھی کے برعکس قرار دیا اور کہا کہ انہیں عوام سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ ملکارجن کھڑگے نے لوگوں کی زبردست بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کو صرف الیکشن سے مطلب ہے، جب انتخاب آتا ہے تو وہ گھومتے ہی رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں نے آپ کو (پی ایم مودی کو) ملک چلانے کے لئے وزیراعظم بنایا تھا، میونسپلٹی کے الیکشن میں تشہیر کرنے کے لئے نہیں۔
کانگریس کے صدر نے اپنی تقریر کے دوران بہار کے وزیراعلٰی نتیش کمار اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو موقع پرست ظاہر کیا، بطور ثبوت انہوں نے کہا کہ بی جے پی سماج میں خوف، نفرت اور زہر پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری جمہوریت اور آئین کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ نتیش کمار نے یہ بات دسمبر 2023ء میں قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں کہی تھی، اب وہ بی جے پی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ امت شاہ کے تعلق سے وہ کہتے ہیں کہ امت شاہ نے کہا تھا نتیش کمار کے لئے بی جے پی کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہیں، وہ بھی اپنی بات سے پلٹ چکے ہیں۔ ملکارجن کھڑگے کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر یہ لوگ موقع پرست ہیں، جو صرف اپنا فائدہ اور کرسی دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے ہم سبھی کو ایسے لوگوں کو اقتدار سے ہٹانا ہے، نہیں تو ہمارا مستقبل برباد ہوجائے گا۔ اپنی تقریر میں کانگریس صدر نے "ووٹ چوری" کا بھی ذکر کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملکارجن کھڑگے نے انہوں نے کہا کہ کانگریس صدر راہل گاندھی کرتے ہوئے کرتے ہیں مودی کو کے لئے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔