ڈنمارک نے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کردی
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
ڈنمارک نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ڈنمارک حکومت نے کہا ہے کہ والدین کو 13 سال تک کے بچوں کو محدود طور پر چند پلیٹ فارمز تک رسائی دینے کی اجازت ہوگی، تاہم 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کا عمومی استعمال ممنوع ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: 16 سال سے کم عمر بچوں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنایا تو کتنی سزا ہوگی؟
یہ اقدام وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن کی جانب سے گزشتہ ماہ پارلیمنٹ میں نوجوانوں کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز کے بعد کیا گیا ہے۔
ڈینش وزیرِ ڈیجیٹلائزیشن کیرولائن اسٹیج اولسن نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بچوں کا وقت، بچپن اور ذہنی سکون چھین رہے ہیں، اور اب حکومت اس عمل کو روکنے جا رہی ہے۔
پارلیمنٹ کی اکثریت نے مجوزہ قانون کی حمایت کا عندیہ دیا ہے، اور توقع ہے کہ اس کی باضابطہ منظوری جلد دے دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: والدین ہوشیار رہیں، سفر سے قبل 18 سال سے کم عمر بچوں کی ویزا شرائط ضرور جان لیں
ڈنمارک حکومت کے مطابق ملک میں بچوں کے زیرِ استعمال سب سے مقبول پلیٹ فارمز میں اسنیپ چیٹ، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک شامل ہیں۔
رواں سال فروری میں جاری ایک سرکاری تجزیے کے مطابق ڈنمارک کے نوجوان روزانہ اوسطاً 2 گھنٹے 40 منٹ سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈنمارک سے قبل آسٹریلیا نے گزشتہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پابندی ڈنمارک سوشل میڈیا کم عمر بچے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پابندی سوشل میڈیا کم عمر بچے سال سے کم عمر بچوں پر پابندی
پڑھیں:
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے نیشنل سائبرکرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درخواست جمع کرادی۔
ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مہم قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔
امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام
میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری اور شفاف تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید :