Jasarat News:
2026-07-24@03:16:41 GMT

پاک افغانستان مذاکرات کی ناکامی

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

251109-03-2

 

پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی برقرار ہے۔ ناکام مذاکرت افغانستان پاکستان کسی کے لیے ٹھیک نہیں، اور پاکستان کے لیے تو بالکل ٹھیک نہیں، پڑوسی ملک افغانستان کے درمیان تازہ ترین کشیدگی، جس کے بعد دوحا اور استنبول میں مصالحانہ مذاکرات کی کوششیں ہوئیں، لیکن اعتماد کے بحر ان کی وجہ سے نتیجہ خیز نہیں ہوا، مذاکرات میں بظاہر مقصد ایک پائیدار جنگ بندی، نگرانی کے میکانزم اور سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے واضح شرائط طے کرنا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اعتماد کی کمی، عسکری اور سیاسی موافقت کا فقدان، اور علاقائی طاقتوں کے مختلف مفادات نے گفتگو کو بارہا ناکام کیا یا کم از کم اس کی تاثیر کم کر دی ہے۔ پچھلے چند ہفتوں میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں نے دونوں اطراف میں انسانی جانوں کا شدید نقصان دکھایا ہے، فوجی اور شہری، دونوں ہلاک ہوئے ہیں اور یہ تصادم اس بات کا ثبوت ہیں کہ محض ڈپلومیسی کی بات چیت سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، جب تک اس کے پیچھے ایک قابل ِ عمل اور قابل ِ جانچ میکانزم قائم نہ ہو۔ دوحا میں پہلی ملاقات کے بعد ایک غیر مستحکم جنگ بندی پر اتفاق ہوا، جبکہ استنبول میں گفتگو کے اگلے مرحلے میں نگرانی کے طریقہ کار کے قیام پر عمومی اتفاق اور بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا تھا؛ مگر متعدد رپورٹس اور تجزیہ کار کے مطابق یہ معاہدے عملی جامہ پہنانے میں بہت کم کامیاب رہے یا پھر معاملات جلد از جلد دوبارہ الجھ گئے۔

افغان فریق کے نقطہ ٔ نظر سے ان کے نمائندے اپنی تجاویز کو ’منطقی اور پاکستان کے لیے آسانی سے قابل ِ عمل‘ قرار دیتے ہیں؛ تاہم اسلام آباد کا مؤقف یہ ہے کہ پیش کردہ مطالبات ناقابل قبول اور جارحانہ ہیں، اس کشمکش کا مرکز عموماً وہ مطالبات ہیں جو پاکستان طرف سے ’سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے‘ کے شقوں کے گرد گھومتے ہیں۔ اسلام آباد نے اپنے شواہد کی بنیاد پر جو مطالبات ثالثوں کے سامنے رکھے، ان کا کہنا تھا کہ مقصد محض سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ ہے اور یہ مطالبات جائز اور منطقی ہیں۔ پاکستانی ترجمانوں نے واضح کیا کہ اگر ان مذاکرات میں عمل درآمد نہ ہوا تو اسلام آباد اپنے عوام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ بات چیت کے عمل کی ناکامی کے معاشی، سفارتی اور انسانی قیمتیں بڑی ہوں گی۔ پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان نے پچھلے چالیس سال میں افغانستان کے اندرونی بحرانوں میں براہِ راست اور بالواسطہ طور پر زندگیوں، معیشت اور سلامتی کے اعتبار سے جو قربانیاں دیں، وہ معمولی نہیں تھیں، پناہ گزینوں کی اکثریت کا بوجھ، سرحدی دہشت گردی کے خلاف طویل فوجی مہمات، اور علاقائی عدم استحکام کے اثرات نے پاکستان کی استعدادِ کار پر دباؤ ڈالا ہے۔ اس پس منظر کا تحفظ یہ بتاتا ہے کہ اسلام آباد کیوں سخت موقف اپناتا ہے اور کیوں اس کے مطالبات کو محض سفارتی الفاظ میں نمٹا کر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ اگر ہم مذاکراتی ناکامی کی اندرونی وجوہات پر نظر ڈالیں تو چند ایسے بنیادی مسائل نظر آتے ہیں جنہیں نظرانداز کرنا سیاسی خود فریبی ہوگی۔ پہلا مسئلہ اعتماد کا فقدان ہے، دونوں اطراف میں سنجیدہ سطح کا اعتماد موجود نہیں جس کی بنا پر کوئی بھی فریق اپنے دفاعی یا سیکورٹی اقدامات میں نمایاں ڈھلاؤ دکھائے۔ دوسرا، عسکری اور سیاسی قیادت کے مابین ہم آہنگی کا فقدان ہے؛ پاکستان میں ملکی حکمت ِ عملی جب عسکری اور سفارتی سطح پر یکساں نہیں تو مذاکراتی ٹیم کے پاس عملی لچک کم رہ جاتی ہے۔ تیسرا، خطے میں بیرونی طاقتوں اور ثالثوں کے کردار اہم رہا جہاں ترکی اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا، اس عمل کو بظاہر سہارا تو ملا مگر یہ سہارا طویل المدتی ہم آہنگی میں تبدیل نہ ہو سکا۔ ثالثی اس وقت تک کامیاب رہتی ہے جب فریقین اپنے اندر بنیادی توازن اور سیاسی تیاری رکھتے ہوں، ورنہ ثالثی عارضی طور پر صورتِ حال کو ٹھنڈا کر دیتی ہے مگر بنیادی تضادات برقرار رہتے ہیں۔ پاکستان کے لیے مخدوش بات یہ ہے کہ اگر مذاکرات بارہا ناکام رہیں تو یہ سلسلہ خانہ جنگی یا بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی کی طرف نہیں جانا چاہیے، اور نہ ہی عوامی سطح پر ایسی تجاویز قابل قبول ہوں جو نہ صرف خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلیں بلکہ خانگی وسائل اور معیشت پر ناقابل ِ تلافی اثرات ڈالیں۔ اس اعتبار سے ’تمام ضروری آپشنز‘ کے جملے، جو سرکاری سطح پر استعمال کیے جاتے ہیں، بعض اوقات داخلی مسائل اور بین الاقوامی تشویش کو جنم دیتے ہیں۔ مذاکرات کے ناکام ہونے کی صورت میں فوجی یا مخصوص کٹے ہوئے آپریشنز ممکن ہیں مگر ان کے نتیجے میں سیکورٹی کی وہ صورتِ حال جن کا تذکرہ کیا جاتا ہے، مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے خاص طور پر جب افغانستان میں مرکزی کنٹرول کمزور ہو اور علاقائی علٰیحدہ گروہ یا امن دشمن عناصر خود کو کسی فضا میں آزاد محسوس کریں۔

اس صورتِ حال میں پاکستان کو دو متوازی حکمت ِ عملیاں اپنانی ہوں گی: ایک تو مختصر المدت، عملی اور تکنیکی نوعیت کی، جس میں سرحدی نگرانی کے بہتر طریق کار، مشترکہ کارروائی کے اہداف، اور ثالثی کے ذریعے قابل ِ عمل میکانزم کو نافذ کرنا شامل ہو؛ دوسری، طویل المدت پالیسی جس میں خطے کی مستقل استحکام کے لیے سیاسی شمولیت، اقتصادی روابط کی تعمیر، اور افغانستان کے اندر موثر ریاستی کنٹرول کو فروغ دینے کی کوششیں شامل ہوں۔ درحقیقت، صرف عسکری یا سفارتی کوششیں اکیلے مسئلے کو حل نہیں کریں گی، ایک جامع نقطہ ٔ نظر درکار ہے جس میں معاشی امداد، انفرا اسٹرکچر کا اشتراک، اور باہمی اعتماد پیدا کرنے والے اقدامات شامل ہوں۔ ایک دانش مندانہ راستہ یہ ہو گا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کو ’دشمن‘ سمجھنے کے بجائے باہمی مفادات کی روشنی میں تعلق بنائیں جہاں انسانی فلاح، اقتصادی استحکام اور بین الاقوامی تعلقات کو مقدم رکھا جائے۔ افغان قیادت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور بین الاقوامی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں اس کے خود کے مستقبل کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ خطے کی سلامتی دونوں فریقین کے مشترکہ مفاد میں ہے؛ اس لیے ناکام مذاکرات کسی کو بھی فائدہ نہیں دیں گے، نہ پاکستان کو، نہ افغانستان کو، اور نہ ہی خطے کے دوسرے ملکوں کو۔ اس کا کوئی فائدہ ہوگا۔ ضرورت دونوں کے لیے اس وقت یہ ہے کہ مذاکراتی ناکامی پر غم و غصہ دکھانے کے بجائے، ایک منظم، شواہد پر مبنی، اور شفاف حکمت ِ عملی مرتب کی جائے جس میں ثالثی کو ایک معاون کردار دیا جائے مگر آخری فیصلے دونوں ملک اپنے قومی مفادات اور بین الاقوامی ذمے داریوں کے پیش ِ نظر کریں۔ اگرچہ تعلقات کی بحالی پیچیدہ اور دیر طلب ہو سکتی ہے، مگر یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ جبر یا عسکری تسلط کی حکمت ِ عملیاں طویل المدت استحکام فراہم نہیں کرتیں، استحکام تبھی ممکن ہے جب دونوں اطراف اپنی پالیسیوں میں عملی لچک اور سیاسی عزم دکھائیں۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور بین الاقوامی اسلام ا باد اور سیاسی یہ ہے کہ کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف