ملک میں سول مارشل لاءنافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، سراج الحق
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
(فائل فوٹو)
چارسدہ:۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سابق مرکزی امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات محدود اور وفاق کے اختیارات بڑھائے جا رہے ہیں، یہ اقدامات جمہوریت کے نام پر سول مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش ہیں، 18ویں ترمیم کی طرح 27ویں ترمیم پر بھی عوامی مشاورت ہونی چاہیے۔
چارسدہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق امیر جماعت نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ دونوں ممالک کے لیے تباہی کا باعث ہوگی کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، امن جرگہ سسٹم اور مذاکرات سے ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی قوتیں پاکستان اور افغانستان کو تصادم کی آگ میں دھکیلنا چاہتی ہیں اس لیے تمام سیاسی جماعتیں اور علمائے کرام جرگہ سسٹم کے ذریعے امن کے لیے کردار ادا کریں۔
سراج الحق نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا جنگ کی صورت میں سب سے زیادہ متاثر ہوگا اور امن جرگہ کا قیام خوش آئند اقدام ہے، تمام جماعتوں کو اس میں شامل ہونا چاہیے، انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا امن و امان کے لحاظ سے سینڈوچ کی مانند بن چکا ہے، وفاق اور صوبہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے، عوام خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
سراج الحق نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم راتوں رات منظور کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے ملک میں کوئی ایمرجنسی نہیں تھی کہ ترمیم عجلت میں منظور کی جائے، انہوں نے کہاکہ سیاسی پارٹیوں کو پیکجز دے کر ترمیم منظور کرانا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے، انہوں نے کہاکہ ملک میں قانون کی بالادستی اور شفاف انتخابات کے بغیر ترقی ممکن نہیں، جماعت اسلامی آئین و قانون کی حکمرانی اور صوبائی خودمختاری کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا سراج الحق نے کہا کہ
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، استحکام اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت، باہمت اور ثابت قدم عوام ہی اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی یہی مشترکہ کاوشیں صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور یہ کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔