سونے سے بنا فن یا سرمایہ داری پر طنز؟ دنیا کا مہنگا ترین ٹوائلٹ نیلامی کے لیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
سدابیز نے اعلان کیا کہ وہ اطالوی فنکار موریتزیو کیٹیلان کے تخلیق کردہ خالص سونے کے ٹوائلٹ ’امریکا‘ کو نیلامی کے لیے پیش کرے گا۔
سدابیز ایک بین الاقوامی کارپوریشن ہے جو فنِ لطیفہ اور اعلیٰ معیار کی آسائشی اشیا کے عالمی رہنما ادارے کے طور پر جانی جاتی ہے۔
یہ اپنی عالمی شہرت یافتہ آکشن ہاؤس یعنی نیلام گھر کے باعث مشہور ہے، جو 1744 سے سرگرمِ عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریاض میں بازوں کی سالانہ نیلامی، 2 باز 5 لاکھ 78 ہزار ریال میں فروخت
نیلام گھر کے مطابق یہ فن پارہ ’فن اور مالیت کے تصادم پر ایک گہرا تبصرہ‘ ہے۔
Cattelan’s “America” (2016), the 101.
— Artsy (@artsy) November 3, 2025
’یہ صرف ایک فن پارہ نہیں بلکہ مکمل طور پر قابلِ استعمال بیت الخلا بھی ہے، جو 2019 میں انگلینڈ کے بلینہم پیلس سے چوری ہونے والے مشہور سنہری ٹوائلٹ جیسا ہی ہے۔‘
یہ نیلامی 18 نومبر کو نیویارک میں ہوگی، جس کی ابتدائی قیمت ٹوائلٹ میں استعمال ہونے والے 101.2 کلوگرام سونے کے موجودہ نرخ یعنی تقریباً 10 ملین ڈالر کے برابر رکھی گئی ہے۔
سدابیز کے نیویارک میں عصری فن کے سربراہ ڈیوڈ گالپرن کے مطابق اطالوی آرٹسٹ موریتزیو کیٹیلان ’آرٹ کی دنیا کے ایک حقیقی اشتعال انگیز فنکار‘ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بدھ مت سے منسوب قیمتی جواہرات کی ہانگ کانگ میں نیلامی منسوخ، 127 سال بعد بھارت واپس پہنچ گئے
کیٹیلان اپنی متنازع اور پرمزاح تخلیقات کے لیے مشہور ہیں، ان کا ایک فن پارہ’کامیڈین‘ جس میں ایک کیلا دیوار پر ٹیپ سے چپکایا گیا تھا۔
گزشتہ سال نیویارک میں 6.2 ملین ڈالر میں فروخت ہوا، جبکہ ان کی دوسری تخلیق گھٹنوں کے بل بیٹھے ایڈولف ہٹلر کا مجسمہ تھا، انگریزی پروناؤن ’ہِم‘ نامی یہ مجسمہ 2016 میں 17.2 ملین ڈالر میں نیلام ہوا تھا۔
موریتزیو کیٹیلان کے مطابق ’امریکا‘ دولت کی زیادتی پر ایک طنزیہ تبصرہ ہے۔ ’چاہے آپ 200 ڈالر کا لنچ کھائیں یا 2 ڈالر کا ہاٹ ڈاگ، نتیجہ بیت الخلا میں ایک سا ہی ہوتا ہے۔‘
2 قن پارے’امریکا‘ کے 2 فن پارے 2016 میں تیار کیے گئے تھے، ایک 2017 سے ایک نامعلوم کلیکٹر کے پاس ہے، یہی ورژن اب فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
دوسرا فن پارہ 2016 میں نیویارک کے گوگن ہائیم میوزیم کے بیت الخلا میں نصب کیا گیا، جہاں ایک لاکھ سے زائد افراد نے اس فن پارے کے ساتھ براہِ راست ’تجربہ‘ کرنے کے لیے قطاریں لگائیں۔
گوگن ہائیم نے بعد میں اس فن پارے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کرنے کی پیشکش کی، جب انہوں نے میوزیم سے ایک وین گوگ کی پینٹنگ ادھار مانگی تھی۔
مزید پڑھیں:ملکہ الزبتھ دوم کے زیرِ استعمال گاڑی نیلامی کے لیے پیش، متوقع بولی 50 سے 70 ہزار پاؤنڈ
2019 میں یہ ٹوائلٹ انگلینڈ کے تاریخی بلینہم پیلس میں نمائش کے لیے رکھا گیا، لیکن چند دن بعد چوروں نے اسے دیوار سے توڑ کر چرا لیا۔
اس واقعے میں ملوث 2 افراد کو رواں سال سزا سنائی گئی، تاہم ٹوائلٹ اب تک برآمد نہیں ہوا، تحقیقات کے مطابق امکان ہے کہ اسے پگھلا کر بیچ دیا گیا ہو۔
ڈیوڈ گالپرن کے مطابق یہ کہنا ممکن نہیں کہ ’امریکا‘ کتنی رقم میں فروخت ہوگا۔
مزید پڑھیں:ٹائٹینک سے لکھے گئے خط کی 4 لاکھ ڈالرز میں نیلامی، خط کی خاص بات کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ کیٹیلان کا ’دیوار پر ٹیپ زدہ کیلا ‘ والا فن پارہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کسی چیز کی حقیقی قدر کس بنیاد پر طے کی جاتی ہے، محض خیال اور مصنف کے نام پر یا مادی قیمت پر؟
’امریکا نامی یہ بیت الخلا اس سوچ کا الٹ ہے، یہاں فن پارے میں سونا موجود ہے، جو حقیقی قدر رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس میں زیادہ اہم کیا ہے، فنکار کا تصور یا خام مال کی قیمت؟‘
یہ سنہرا ٹوائلٹ 8 نومبر سے نیویارک کے نئے سدابیز ہیڈکوارٹر بریوار بلڈنگ میں عوامی نمائش کے لیے رکھا جائے گا، لیکن اس بار صرف دیکھنے کی اجازت ہوگی، یعنی دیکھ سکتے ہیں، مگر فلش نہیں کرسکتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بیت الخلا ٹوائلٹ قیمتی کامیڈین لنچ مہنگا نیلامی ہاٹ ڈاگ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بیت الخلا ٹوائلٹ قیمتی کامیڈین مہنگا نیلامی بیت الخلا کے مطابق فن پارہ فن پارے کے لیے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔