سدابیز نے اعلان کیا کہ وہ اطالوی فنکار موریتزیو کیٹیلان کے تخلیق کردہ خالص سونے کے ٹوائلٹ ’امریکا‘ کو نیلامی کے لیے پیش کرے گا۔

سدابیز ایک بین الاقوامی کارپوریشن ہے جو فنِ لطیفہ اور اعلیٰ معیار کی آسائشی اشیا کے عالمی رہنما ادارے کے طور پر جانی جاتی ہے۔

یہ اپنی عالمی شہرت یافتہ آکشن ہاؤس یعنی نیلام گھر کے باعث مشہور ہے، جو 1744 سے سرگرمِ عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریاض میں بازوں کی سالانہ نیلامی، 2 باز 5 لاکھ 78 ہزار ریال میں فروخت

نیلام گھر کے مطابق یہ فن پارہ ’فن اور مالیت کے تصادم پر ایک گہرا تبصرہ‘ ہے۔

Cattelan’s “America” (2016), the 101.

2-kilogram solid gold toilet, will be auctioned for its bullion value, with the starting bid in the region of $10 million. https://t.co/AQIKn9EtaL

— Artsy (@artsy) November 3, 2025

’یہ صرف ایک فن پارہ نہیں بلکہ مکمل طور پر قابلِ استعمال بیت الخلا بھی ہے، جو 2019 میں انگلینڈ کے بلینہم پیلس سے چوری ہونے والے مشہور سنہری ٹوائلٹ جیسا ہی ہے۔‘

یہ نیلامی 18 نومبر کو نیویارک میں ہوگی، جس کی ابتدائی قیمت ٹوائلٹ میں استعمال ہونے والے 101.2 کلوگرام سونے کے موجودہ نرخ یعنی تقریباً 10 ملین ڈالر کے برابر رکھی گئی ہے۔

سدابیز کے نیویارک میں عصری فن کے سربراہ ڈیوڈ گالپرن کے مطابق اطالوی آرٹسٹ موریتزیو کیٹیلان ’آرٹ کی دنیا کے ایک حقیقی اشتعال انگیز فنکار‘ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بدھ مت سے منسوب قیمتی جواہرات کی ہانگ کانگ میں نیلامی منسوخ، 127 سال بعد بھارت واپس پہنچ گئے

کیٹیلان اپنی متنازع اور پرمزاح تخلیقات کے لیے مشہور ہیں، ان کا ایک فن پارہ’کامیڈین‘ جس میں ایک کیلا دیوار پر ٹیپ سے چپکایا گیا تھا۔

گزشتہ سال نیویارک میں 6.2 ملین ڈالر میں فروخت ہوا، جبکہ ان کی دوسری تخلیق گھٹنوں کے بل بیٹھے ایڈولف ہٹلر کا مجسمہ تھا، انگریزی پروناؤن ’ہِم‘ نامی یہ مجسمہ 2016 میں 17.2 ملین ڈالر میں نیلام ہوا تھا۔

موریتزیو کیٹیلان کے مطابق ’امریکا‘ دولت کی زیادتی پر ایک طنزیہ تبصرہ ہے۔ ’چاہے آپ 200 ڈالر کا لنچ کھائیں یا 2 ڈالر کا ہاٹ ڈاگ، نتیجہ بیت الخلا میں ایک سا ہی ہوتا ہے۔‘

2 قن پارے

’امریکا‘ کے 2 فن پارے 2016 میں تیار کیے گئے تھے، ایک 2017 سے ایک نامعلوم کلیکٹر کے پاس ہے، یہی ورژن اب فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

دوسرا فن پارہ 2016 میں نیویارک کے گوگن ہائیم میوزیم کے بیت الخلا میں نصب کیا گیا، جہاں ایک لاکھ سے زائد افراد نے اس فن پارے کے ساتھ براہِ راست ’تجربہ‘ کرنے کے لیے قطاریں لگائیں۔

گوگن ہائیم نے بعد میں اس فن پارے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کرنے کی پیشکش کی، جب انہوں نے میوزیم سے ایک وین گوگ کی پینٹنگ ادھار مانگی تھی۔

مزید پڑھیں:ملکہ الزبتھ دوم کے زیرِ استعمال گاڑی نیلامی کے لیے پیش، متوقع بولی 50 سے 70 ہزار پاؤنڈ

2019 میں یہ ٹوائلٹ انگلینڈ کے تاریخی بلینہم پیلس میں نمائش کے لیے رکھا گیا، لیکن چند دن بعد چوروں نے اسے دیوار سے توڑ کر چرا لیا۔

اس واقعے میں ملوث 2 افراد کو رواں سال سزا سنائی گئی، تاہم ٹوائلٹ اب تک برآمد نہیں ہوا، تحقیقات کے مطابق امکان ہے کہ اسے پگھلا کر بیچ دیا گیا ہو۔

ڈیوڈ گالپرن کے مطابق یہ کہنا ممکن نہیں کہ ’امریکا‘ کتنی رقم میں فروخت ہوگا۔

مزید پڑھیں:ٹائٹینک سے لکھے گئے خط کی 4 لاکھ ڈالرز میں نیلامی، خط کی خاص بات کیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ کیٹیلان کا ’دیوار پر ٹیپ زدہ کیلا ‘ والا فن پارہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کسی چیز کی حقیقی قدر کس بنیاد پر طے کی جاتی ہے، محض خیال اور مصنف کے نام پر یا مادی قیمت پر؟

’امریکا نامی یہ بیت الخلا اس سوچ کا الٹ ہے، یہاں فن پارے میں سونا موجود ہے، جو حقیقی قدر رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس میں زیادہ اہم کیا ہے، فنکار کا تصور یا خام مال کی قیمت؟‘

یہ سنہرا ٹوائلٹ 8 نومبر سے نیویارک کے نئے سدابیز ہیڈکوارٹر بریوار بلڈنگ میں عوامی نمائش کے لیے رکھا جائے گا، لیکن اس بار صرف دیکھنے کی اجازت ہوگی، یعنی دیکھ سکتے ہیں، مگر فلش نہیں کرسکتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا بیت الخلا ٹوائلٹ قیمتی کامیڈین لنچ مہنگا نیلامی ہاٹ ڈاگ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا بیت الخلا ٹوائلٹ قیمتی کامیڈین مہنگا نیلامی بیت الخلا کے مطابق فن پارہ فن پارے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار