ہائیکورٹ نے سندھ کے چڑیا گھروں کے مرحلہ وار خاتمے کیلئے کمیٹی بنادی
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے صوبے کے چڑیا گھروں کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنادی۔
سندھ ہائی کورٹ کے دورکنی بینچ نے کراچی چڑیا گھر سے مادہ ریچھ رانو کی منتقلی کا کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
عدالت نے سندھ بھر کے چڑیا گھروں کو مرحلہ وار ختم کرنے سے متعلق اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کردی اور کہا کہ چڑیا گھروں کے مرحلہ وار خاتمے سے متعلق تجاویز دی جائیں۔
تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ کنزرویٹر جنگلی حیات جاوید مہر نے اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل کی تجویز دی ہے۔ کمیٹی کو متعلقہ شعبے سے ماہرین کی معاونت حاصل کرنے کا اختیار ہوگا اور کمیٹی صوبے بھر کے چڑیا گھروں کا دورہ کرکے بہتری کی تجاویز دے گی۔
عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 21 نومبر تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے چڑیا گھروں مرحلہ وار
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔