ایچ پی وی ویکسین کی مہم کے نتائج نہ ملے، سندھ حکومت نے 797 ملین روپے مختص کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
سندھ حکومت نے HPV ویکسین کی خریداری کے لیے 797 ملین روپے مختص کیے ہیں، باوجود اس کے کہ حالیہ ویکسین مہم نے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے۔ یہ ویکسین 2026 سے بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (EPI) میں شامل کی جائے گی۔
ستمبر 2023 میں سندھ بھر میں شروع کی گئی HPV ویکسین مہم کا مقصد 9 سے 15 سال کی لڑکیوں کو سروائیکل کینسر سے بچانا تھا، تاہم مہم میں والدین کی جانب سے عدم اعتماد اور انکار کے سبب اس کا ہدف پورا نہ ہو سکا۔ کراچی کے مختلف اضلاع میں ویکسین کی شرح بہت کم رہی؛ کیماڑی میں صرف 16 فیصد، ضلع شرقی میں 37 فیصد، اور ضلع جنوبی میں 39 فیصد لڑکیوں کو ہی ویکسین لگائی جا سکی۔
بین الاقوامی تنظیم GAVI نے پاکستان کو 13 ملین HPV ویکسین فراہم کی تھیں، مگر مہم کے دوران والدین نے سوشل میڈیا پر ویکسین کے بارے میں منفی معلومات کے سبب اپنی بچیوں کو ویکسین لگانے سے انکار کر دیا۔ کراچی سمیت سندھ میں بڑی تعداد میں والدین نے اسکولوں میں ویکسین لگوانے پر زور دینے کے باوجود اپنی بچیوں کو ویکسین نہیں لگوائی۔
ڈاکٹر راج کمار، پروجیکٹ ڈائریکٹر EPI نے کہا کہ 3 سال کے لیے مختص رقم سے ہر سال 9 سے 15 سال کی لڑکیوں کو 7 لاکھ ویکسین لگائی جائیں گی، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب والدین اپنی بچیوں کو ویکسین نہیں لگوانا چاہتے تو حکومت سندھ کیوں اس ویکسین کی خریداری کے لیے اتنی بڑی رقم خرچ کر رہی ہے؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ویکسین کی
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا