data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

چیئرمین تحریک انصاف (پی ٹی ٓئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں صوبائی خود مختاری کو ہرگز نہیں چھیڑا جانا چاہیے، کیونکہ صوبوں کے پاس اپنے قوانین اور اختیارات موجود ہیں جن میں وفاقی مداخلت کی ضرورت نہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا کہ تحریک انصاف 27ویں آئینی ترمیم کی بھرپور مخالفت کرے گی، تاحال پارٹی کو اس ترمیم کے مسودے سے متعلق کوئی باضابطہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں، 26ویں ترمیم کے موقع پر بھی ہمارے ساتھ ایک ڈرافٹ شیئر کیا گیا تھا مگر پارلیمان میں پیش کچھ اور کیا گیا، جس پر میں نے مولانا فضل الرحمان کو بھی آگاہ کیا تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ موجودہ پارلیمان کے پاس آئین میں تبدیلی کا استحقاق نہیں، کیونکہ آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جو اس ایوان کے پاس نہیں، ہماری 91 نشستیں تھیں، پہلے تین چھین لی گئیں، پھر آٹھ اور اس کے بعد مخصوص نشستیں بھی لے لی گئیں۔ ایسے میں آئین میں ترمیم آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی ہوگی۔

بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں آج تک کوئی ترمیم نہیں کی گئی، اگر 27ویں ترمیم لائی گئی تو اس کے اثرات وفاق اور صوبوں دونوں پر مرتب ہوں گے۔

پنجاب حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اربو‌ں روپے کے بجٹ کے باوجود عوامی اطمینان کہیں نظر نہیں آتا، میڈیا خود جا کر دیکھ لے کوئی شہری حکومت کے کام سے خوش نہیں۔”

عمران خان کی قید سے متعلق سوال پر چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ خان صاحب کو دو سال سے زائد عرصہ قید میں رکھا گیا ہے اور پانچ دن میں تین مختلف سزائیں سنائی گئیں، انہیں ضمانت ملتی ہے تو نئے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اب توشہ خانہ اور عدت کیس باقی ہیں۔ اگر عدالتیں قانون کے مطابق فیصلے دیں تو خان صاحب ضرور رہا ہوں گے، مگر کسی ڈیل کے تحت نہیں بلکہ عدلیہ کے ذریعے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ آج شاہ محمود قریشی سے ملاقات کریں گے تاکہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا دو پٹیشنز پر کارروائی کے حوالے سے مشاورت کی جا سکے، ہماری تحریک جاری ہے، لیکن اس وقت خان صاحب کی جانب سے کسی احتجاج کی کال نہیں دی گئی، انہوں نے وضاحت کی۔

آخر میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی کی تمام کوششیں عمران خان کی قانونی رہائی کے لیے ہیں اور خان صاحب ان اقدامات سے مطمئن ہیں، ہم کوئی گوریلا فورس نہیں، نہ ہی کسی بیرونی طاقت کے منتظر ہیں۔ جو بھی ہوگا، قانون اور عدلیہ کے دائرے میں ہوگا۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر نے کہا کہ

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ