کراچی:

حکومت سندھ نے صوبے میں بچوں کو حفاظتی ویکسین نہ لگوانے والے والدین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا اور سکھر میں 480 والدین کے خلاف جرمانے کیے گئے اور ساتھ ہی ویکسین کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنے والوں کی خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ایکسپریس نیوز کو ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹرسہیل شیخ نے بتایا کہ سندھ امیونائزیشن اینڈ ایپیڈیمکس کنٹرول ایکٹ 2023 کے تحت 480 والدین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور یہ جرمانے سکھر ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کیے گئے۔

ڈاکٹر سہیل شیخ نے ایکٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اب کراچی سمیت صوبے میں بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے پلائی جانے والی حفاظتی ویکسین کے خلاف کسی بھی قسم کے منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے ایکٹ کے حوالے سے بتایا کہ سندھ امیونائزیشن اینڈ ایپیڈیمکس کنٹرول ایکٹ 4 اگست 2023 میں صوبائی اسمبلی سے منظور کیا گیا تھا جس کا مقصد بچوں میں مختلف بیماریوں اور وبائی امراض کی روک تھام کرنا ہے۔

ایکٹ کی خلاف ورزی کے تحت ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو جرمانے عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جس میں جو بھی والدین اپنے بچوں کو حفاظتی ویکسین پلانے سے انکار کرے گا تو اسے ایک ماہ قید اور 50 ہزار یا ایک لاکھ روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایکٹ کے تحت حفاظتی ویکسین کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کو بھی 6 ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جائیں گی، اس ایکٹ کے تحت صوبے میں الیکٹرونک امیونائزیشن رجسٹری بھی قائم کی جائے گی جس کے تحت اسپتال یا ویکسینیشن سینٹر کی رجسٹریشن کے بغیر کسی بھی بچے کو پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرسکے گا۔

 انہوں نے مزید بتایا کہ ایکٹ کے تحت والدین یا گھر کے سرپرست کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین شیڈول کے مطابق ویکسینیشن کے مراکز سے اپنے بچوں کو حفاظتی ویکسین لازمی پلائیں۔

ڈاکٹر سہیل شیخ نے بتایا کہ ایکٹ کے تحت اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین نہ پلانے والے والدین کو ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایکٹ کے تحت حفاظتی ویکسین بلامعاوضہ پلائی جائے گی، ایکٹ کی خلاف ورزی قابل سزا جرم تصور ہوگا اور ایسے افراد کے حلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بچے کی شیڈول کے مطابق حفاظتی ویکسینیشن مکمل ہونے کے بعد ویکسینٹر والدین کو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ فراہم کرے گا، اگر ویکسینیٹر کو یہ علم ہو کہ بچہ کسی طبی مسائل کی وجہ سے ویکسین نہیں لگوا سکتا تو ویکسینٹر والدین کو ایک نان فٹ سرٹیفیکٹ جاری کرے گا اور اسے اگلی مقررہ تاریخ کو ویکسینیشن کے لیے دوبارہ آنے کو کہے گا۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حفاظتی ویکسین کہ ایکٹ کے تحت اپنے بچوں کو بتایا کہ کے خلاف جائے گی

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، ڈائریکٹر جعفر امام کی ملی بھگت گلبہار میں بے قابو غیرقانونی تعمیرات

ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی اور فیلڈ آفیسرز کی ملی بھگت سے غیرقانونی کام بڑے پیمانے پر جاری
پلاٹ نمبر 684،261، کی کمزور بنیادوں پر بالائی منزلوں کا بوجھ دھڑلے سے ڈالا جانے لگا

ضلع وسطی کے گھنے آبادی والے علاقے گلبہار میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے جاگتے وجود کے باوجود غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ تواتر سے جاری ہے ۔بغیر منظور شدہ نقشوں، تعمیراتی اجازت ناموں اور بلڈنگ قوانین کی پاسداری کے تعمیر ہونے والی نئی عمارتیں نہ صرف قانونی ضوابط کو للکار رہی ہیں بلکہ ہزاروں شہریوں کی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگا رہی ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا الزام ہے کہ ایس بی سی اے کے مقامی ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی اور فیلڈ آفیسرز کی ملی بھگت سے ہی یہ غیرقانونی کام بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں۔’’رپورٹ کرنے پر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ یا تو افسر نظر انداز کر دیتے ہیں، یا پھر تعمیر کرنے والے انہیں ’سیٹل‘ کر لیتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں تو ایس بی سی اے کا کوئی وجود ہی دکھائی نہیں دیتا،’’ایک اور رہائشی عمران کا کہنا ہے کہ ’’ہمارے گھر کے سامنے والے پلاٹ پر پرانی کمزور عمارت پر بالائی منزل کی تعمیر کا کام دھڑلے سے جاری ہے ، ہم نے ایس بی سی اے کی ہیلپ لائن پر درجنوں کالز کیں، آن لائن شکایت درج کروائیں، مگر جواب کا انتظار ہی ہے ۔اس وقت بھی پلاٹ نمبر A684 لیاقت چوک اور 261سینٹری مارکیٹ کمزور بنیادوں پر بالائی منزلوں کی تعمیر جاری ہے ،ایس بی سی اے کے ترجمان نے اس معاملے پر کہا ہے کہ اتھارٹی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرتی رہتی ہے اور گلبہار میں بھی ماضی میں کچھ ڈھانچے سیل کیے گئے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ ’’ہم رشوت ستانی کی کسی بھی شکایت کی فوری طور پر تحقیقات کرتے ہیں۔ عوام سے گزارش ہے کہ وہ ہمارے ہیلپ لائن نمبر یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مستند معلومات کے ساتھ شکایت درج کرائیں، ہم ضرور کارروائی کریں گے ۔تاہم، شہری حقوق کے کارکن علی حیدر کا کہنا ہے کہ یہ بیانات محض کاغذی کارروائی ہیں۔ ’’ایس بی سی اے کی پورا نظام ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ نجی تعمیرات کی نگرانی کے لیے نہ افرادی قوت ہے ، نہ ایمانداری، اور نہ ہی سیاسی مرضی۔ نتیجہ یہ ہے کہ غریب شہریوں کی زندگیوں سے کھلواڑ ہو رہا ہے ۔”شہری منصوبہ بندوں کا خیال ہے کہ گلبہار جیسے پرانے علاقوں میں غیرمنصوبہ بند تعمیرات سے بنیادی ڈھانچے پر ناقابل برداشت دباؤ پڑ رہا ہے ، جس کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات کراچی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوں گے ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف صرف سیلنگ ہی نہیں، بلکہ ذمہ دار افسران کے خلاف بھی سخت انسداد بدعنوانی کی کارروائی ہونی چاہیے ۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش: میانمار اسمگل کی جانے والی سیمنٹ کی ڈیڑھ ہزار بوریاں ضبط، 22 افراد گرفتار
  • اماراتی امیگریشن قوانین میں تبدیلی، غیر قانونی افراد کو پناہ دینے پر کروڑوں کے جرمانے نافذ
  • کچے کے  ڈاکوؤں کے خلاف پولیس کی کارروائی 2افراد کو اغوا ہونے سے بچالیا 
  • شکارپور پولیس کا ڈاکوؤں کیخلاف کامیاب آپریشن، وزیر داخلہ سندھ کی پولیس ٹیم کو شاباش
  • سندھ بلڈنگ، ڈائریکٹر جعفر امام کی ملی بھگت گلبہار میں بے قابو غیرقانونی تعمیرات
  • حکومت پنجاب کابلدیاتی ایکٹ سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے، مفتی عامر محمود 
  • کراچی، منظور شدہ نقشے سے ہٹ کر کی گئی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
  • گجرات :امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم پنجاب کے بلدیاتی ایکٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کررہے ہیں
  • اسلام آباد میں غیر قانونی مقیم افغانیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم
  • بچوں میں مثبت رویہ کیسے اجاگر کریں