کرپشن اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور جماعتِ اسلامی ایک منصفانہ، کرپشن سے پاک اور انصاف پر مبنی ریاست کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔
وہ سلہٹ میں امان اللہ کنونشن ہال میں جماعتِ اسلامی سلہٹ میٹروپولیٹن کے زیرِ اہتمام ایک عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ ہم سب مل کر نیا بنگلہ دیش بنانا چاہتے ہیں، بعض سیاسی جماعتیں کہتی ہیں وہ سب کے ساتھ چلیں گی مگر جماعتِ اسلامی کے ساتھ نہیں۔
’۔۔۔لیکن ہم کہتے ہیں اگر اللہ نے ہمیں موقع دیا تو ہم سب کو ساتھ لے کر ملک کی تعمیر کریں گے، ان کو بھی جو ہم سے اختلاف رکھتے ہیں۔‘
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جماعتِ اسلامی اقتدار میں آ کر کرپشن، بھتہ خوری اور دہشت گردی سے پاک معاشرہ قائم کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ ہمارے خلاف ناانصافی ہوئی تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ ’دعا کریں کہ بنگلہ دیش ایک بار پھر آمریت کے شکنجے میں نہ جکڑ جائے۔‘
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے موجودہ نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چند افراد ملک کا سرمایہ لوٹ کر بیرونِ ملک جمع کررہے ہیں جبکہ عوام غربت و ظلم کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم معاشرتی انصاف کے قیام تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔
’جب انصاف قائم ہوگا تو لوٹ مار، قتل اور بدعنوانی ختم ہو جائے گی، ہمارا مقصد تعلیم، دیانت اور بہبود کے فروغ کے لیے کام کرنا ہے۔‘
انہوں نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر جماعتِ اسلامی کے نمائندے اقتدار میں آ کر حکومتی مراعات حاصل کریں یا کرپشن میں ملوث ہوں تو عوام آئندہ ان کو ووٹ نہ دیں۔
’ہم عوام کے خادم بننا چاہتے ہیں، حکمران نہیں، اگر ہم غلطی کریں تو ہمیں جواب دہ ٹھہرائیں۔‘
انہوں نے ماضی میں جماعتِ اسلامی کے کارکنوں پر ریاستی جبر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر پابندیاں لگیں، گھروں کو مسمار کیا گیا، مگر آج بھی ہم موجود ہیں۔
’جنہوں نے ہمیں مٹانے کی کوشش کی، وہ خود مٹ گئے، یہ اللہ کا انصاف ہے۔‘
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعت کے کارکنوں نے عوامی تحریک کے دوران امن قائم رکھنے میں کردار ادا کیا، حتیٰ کہ خالی پولیس اسٹیشنوں، عبادت گاہوں اور عوامی املاک کی حفاظت بھی انہوں نے کی۔
انہوں نے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ناانصافی اور عدم مساوات عام ہو چکی ہے، یہاں تک کہ اب امامِ مسجد بھی مشکوک سمجھے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق، ملک کی 62 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جن میں 22 فیصد طلبا شامل ہیں۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ دیانتدار اور شفاف صحافت ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ ’سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنا ہی اصل صحافت ہے۔‘
انہوں نے بیرونِ ملک مقیم بنگلہ دیشی شہریوں کے حقوق پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جماعتِ اسلامی اقتدار میں آ کر تمام بنگلہ شہریوں کی قومی ترقی میں شمولیت یقینی بنائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش اسلامی کے انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔