جماعت اسلامی کا لاہور اجتماع عام تبدیلی کا آغاز ثابت ہوگا،منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا لاہور میں ہونے والا “اجتماع عام” ملک میں حقیقی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، 21 سے 23 نومبر تک منعقد ہونے والے اس بڑے اجتماع میں ملک بھر سے تاجر، مزدور، کسان، خواتین اور نوجوان شریک ہوں گے، جو ظالمانہ نظام کے خاتمے اور ملک میں عدل و انصاف پر مبنی نظام کے قیام کا لائحہ عمل طے کریں گے۔
ادارہ نور حق میں منعقدہ تاجروں کے نمائندہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی میں ای چالان کے نام پر عوام پر مسلط کیے گئے بھاری جرمانے سراسر ظلم ہیں، جماعت اسلامی نے اس ظالمانہ قانون کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے، اور اگر عوام کو ریلیف نہ ملا تو سڑکوں پر احتجاج بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بدل دو نظام کے نعرے کے تحت ہونے والا لاہور کا اجتماع عام ملک میں جاگیرداروں اور وڈیروں کے استحصالی نظام کے خلاف عوامی بیداری پیدا کرے گا، منعم ظفر خان نے تاجروں کو دعوت دی کہ وہ اس تاریخی اجتماع میں بھرپور شرکت کریں۔
اجلاس میں کراچی کے مختلف تجارتی علاقوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے شرکت کی اور اجتماع عام میں بھرپور شرکت کا عزم ظاہر کیا، تاجروں نے اس موقع پر 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی جو اجتماع عام کے انتظامات میں تعاون کرے گی۔
کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری برسوں سے مسائل کا شکار ہے لیکن ان کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، عوام کی خاموشی نے حالات کو ناسور بنا دیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر اس نظام کو بدلنے کے لیے آواز اٹھائیں۔
کوآپریٹو مارکیٹ کے جنرل سیکریٹری محمد اسلم خان نے کہا کہ سندھ حکومت نے ای چالان کے نام پر عوام سے لوٹ مار شروع کر دی ہے جبکہ کے الیکٹرک نے بلوں میں اضافی ٹیکس لگا کر شہریوں پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔
واٹر پمپ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے رہنما عارف اسماعیل کا کہنا تھا کہ چالان سے پہلے عوام کو تربیت دی جائے اور سڑکوں کی حالت بہتر بنائی جائے۔ بولٹن مارکیٹ ٹریڈرز اتحاد کے صدر شریف میمن نے کہا کہ ایک نظام درست کیے بغیر دوسرا سسٹم مسلط کر دیا جاتا ہے، شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی