ایران کی پاکستان و سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ایران نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی تعاون کے معاہدے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کو نیٹو کی طرز پر مشترکہ فوج تشکیل دینی چاہیے تاکہ امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس دفاعی معاہدے میں شامل ہونا چاہتا ہے کیونکہ یہ خطے کے امن اور مسلم ممالک کے اتحاد کے لیے ضروری قدم ہے، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کو نیٹو کی طرز پر اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج بنانی چاہیے تاکہ فلسطینیوں کا بھرپور دفاع کیا جا سکے۔
ایرانی اسپیکر نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ صرف فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے اپنی افواج غزہ بھیجیں نہ کہ ایسے اقدامات کریں جن سے اسرائیلی تسلط مزید مضبوط ہو۔
قبل ازیں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر عاطف اکرام شیخ اور ان کے وفد سے ملاقات کے دوران محمد باقر قالیباف نے کہا کہ پاکستان نے اسرائیلی جارحیت کے دوران جس طرح ایران کا ساتھ دیا، وہ قابلِ تعریف ہے، اور کوئی ایرانی اسے بھلا نہیں سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امتِ مسلمہ کا قیمتی اثاثہ ہے، اور دونوں ممالک مشترکہ چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں جن کا حل تعاون اور اتحاد میں پوشیدہ ہے۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ میڈیکل، توانائی اور بینکنگ سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں، دونوں برادر ممالک کو تجارتی روابط کو مزید فروغ دینا چاہیے تاکہ خطے میں معاشی استحکام اور خوشحالی کی راہ ہموار ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔