پاکستان اور ترکیے کا انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان اور ترکیے کی وزارت داخلہ نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فعال کرنے کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترکیے کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچے اور وفاقی وزارت داخلہ آئے جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور دونوں فریقین کے درمیان وفود کی سطح پر ون ٹو ون ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں پاک-ترکیہ تعلقات، انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات، انسانی اسمگلنگ، بارڈر سیکیورٹی، سائبر کرائم، کوسٹ گارڈ اور پولیس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے مابین تعاون کو مزید فعال کرنے کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔
فیصلہ کیا گیا کہ ورکنگ گروپ ہر سال چار مرتبہ ملاقات کرے گا، دونوں ممالک کا انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا بھی فیصلہ ہوا۔
وزیر داخلہ ترکیہ علی یرلیکایا نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی ترکیہ کی سیکیورٹی سے الگ نہیں ہے اور اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کے شعبوں میں فعال کردار کو سراہا۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین امیگریشن، انسداد منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے، اس کے سدباب کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔
اس موقع پر پاکستان کی جانب سے انٹر پول کے انتخابات میں ترکیہ کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا گیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس محدود وسائل کے باوجود قابل ستائش کام کر رہی ہے، گزشتہ پانچ سال میں پاکستان سے ترکیہ منشیات اسمگلنگ کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین پولیس ٹریننگ کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے، مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وزیر داخلہ ترکیہ علی یرلیکایا نے کہا کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور تمام شعبوں میں تعلقات کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے اور جوائنٹ ورکنگ گروپ کے قیام سے دونوں ممالک کے مابین تعاون کو فروغ ملے گا۔
ترک وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے پاکستان میں شان دار مہمان نوازی پر پاکستانی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے شعبے میں تعاون بڑھانے دونوں ممالک ورکنگ گروپ وزیر داخلہ بڑھانے کا نے کہا کہ کے مابین کیا گیا
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین