پسند کی شادی، ناکام ہوجاتی ہیں؟ خالد انعم نے دل کھول کر رکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
اداکار، گلوکار اور میزبان خالد انعم نے ایک حالیہ انٹرویو میں محبت اور شادی کے بارے میں گفتگو کی۔
حاضر دماغ اور بذلہ سنج خالد انعم نے کہا کہ محبت کبھی کامیاب نہیں ہوتی بلکہ کامیاب محبت وہی ہے جو ادھوری رہ جائے جس میں شادی نہ ہو۔
انھوں نے اپنی بات کے ثبوت میں دلیل دی کہ پریمی جوڑوں ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہیوال اور دیگر کی شادی نہیں ہوئی، تبھی آج تک یاد ہیں۔
خالد انعم نے مزد کہا کہ اگر ان سب کی بھی شادیاں ہو جاتیں تو کہانیاں کچھ یوں ہوتیں، ہیر کہہ رہی ہوتی: رانجھا، آج گندم کون پِسے گا؟ اور مہیوال بجٹ کا رونا رو رہا ہوتا۔
اداکار خالد انعم نے کہا کہ جو محبت شادی تک پہنچ جائے وہ ختم ہو جاتی ہے۔ پھر محبت نہیں، بس ذمہ داریاں رہ جاتی ہیں۔ پیار محبت کی باتیں ختم اور کیچن، بل اور بچوں کے قصے شروع ہو جاتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ محبت ادھوری رہے تو شاعری بنتی ہے اور پوری ہو جائے تو مہنگائی کی کہانی بن جاتی ہے۔
خیال رہے کہ خالد انعم ایک اداکار، گلوکار اور موسیقار بھی ہیں۔ خاص طور پر ان کا مشہور نغمہ ”پیران“ جو نوّے کی دہائی میں بے حد مقبول ہوا تھا۔
وہ سماجی کارکن اور بچوں کے خصوصی کھیل کے لیے بھی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی شادی تہمینہ خالد سے ہوئی جو فیشن جرنلسٹ ہیں۔
اس خوبصورت جوڑے کے دو بیٹے عمار اور کمیل ہیں اور یہ خاندان ایک کامیاب اور خوشگوار زندگی بسر کر رہا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل خالد انعم نے کہا کہ
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔