پاکستانی کھلاڑیوں کو بگ بیش لیگ میں شرکت کی اجازت مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
پاکستانی کھلاڑیوں کو این او سی کی غیر یقینی صورتحال ختم ہونے کے بعد بگ بیش لیگ میں شرکت کی اجازت مل گئی ہے۔
ستمبر کے آخر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سمیع احمد سید نے کھلاڑیوں اور ایجنٹس کو ایک نوٹس کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ بورڈ نے غیر ملکی ٹی 20 لیگز میں شرکت پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ہفتے کے روز کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرینبرگ نے تصدیق کی کہ پاکستانی کھلاڑی طے شدہ شیڈول کے مطابق بی بی ایل میں شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بگ بیش وومنز لیگ کا منفرد آغاز، کرکٹرز ٹرافی لے کر سڈنی کی بلند ترین عمارت پر پہنچ گئیں
ٹوڈ گرینبرگ نے کہا کہ ہمیں گزشتہ ہفتے کھلاڑیوں کی کلیئرنس ملی ہے، تمام کھلاڑی کھیلنے کے لیے تیار ہیں اور ہم خوش ہیں کہ اس سیزن میں بہترین پاکستانی کھلاڑی ایکشن میں نظر آئیں گے۔
ٹورنامنٹ 14 دسمبر سے 25 جنوری تک جاری رہے گا۔ پاکستانی کھلاڑیوں میں بابراعظم (سڈنی سکسرز)، شاہین شاہ آفریدی (برسبین ہیٹ)، حسن علی (ایڈیلیڈ سٹرائیکرز)، محمد رضوان (میلبورن رینیگیڈز)، حارث رؤف (میلبورن سٹارز) اور شاداب خان (سڈنی تھنڈر) شامل ہیں۔
بابر اور شاہین کے درمیان ہونے والے مقابلے 5 جنوری اور 18 جنوری کو شیڈول ہیں، جو شائقین کی خصوصی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ پاکستانی کھلاڑی سڈنی تھنڈر کے خلاف میچز میں بھارتی اسپنر روی چندرن ایشون کے مدمقابل بھی ہوں گے، جو شاداب خان کے ساتھ اسی ٹیم میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرنیشنل ٹی20 لیگز کھیلنے کے لیے قومی کھلاڑیوں کے این او سی منسوخ، پی سی بی نے وجہ بھی بتادی
بی بی ایل میں ایشون کی شمولیت کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس نے یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ کیا مستقبل میں دیگر بھارتی کھلاڑی بھی ریٹائرمنٹ کے بعد غیر ملکی لیگز میں شرکت کر سکتے ہیں۔
کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق مستقبل میں مزید بھارتی کھلاڑیوں کے بی بی ایل میں شامل ہونے کے امکانات موجود ہیں، تاہم یہ پیش رفت اس بات پر بھی منحصر ہے کہ آیا لیگ میں نجی سرمایہ کاری لائی جاتی ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف یہ ہے کہ دنیا کے بہترین کھلاڑی بی بی ایل میں کھیل سکیں، لیکن اس کے لیے مالی وسائل درکار ہیں تاکہ ہم عالمی سطح پر مسابقت برقرار رکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: بگ بیش لیگ کی ڈرافٹنگ کا مرحلہ، کتنے پاکستانی کھلاڑیوں کو منتخب کرلیا گیا؟
رپورٹس کے مطابق آسٹریلوی کھلاڑی پیٹ کمنز اور ٹریوس ہیڈ نے آئی پی ایل فرنچائزز کی جانب سے دیے گئے 1 کروڑ آسٹریلوی ڈالر کے طویل مدتی معاہدوں کو مسترد کیا ہے۔
ٹوڈ گرینبرگ نے کہا کہ موجودہ سینیئر کھلاڑیوں کے حوالے سے زیادہ تشویش نہیں، لیکن آنے والی نسل کے لیے یہ مسئلہ بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے آسٹریلوی کرکٹ میں رہتے ہوئے اپنے ملک کی نمائندگی کو اولین ترجیح دینا ضروری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایڈیلیڈ سٹرائیکرز بابراعظم بگ بیش لیگ بی بی ایل حارث رؤف سڈنی تھنڈر شاداب خان شاہین آفریدی کرکٹ آسٹریلیا میلبورن رینیگیڈز میلبورن سٹارز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بگ بیش لیگ بی بی ایل سڈنی تھنڈر شاہین ا فریدی کرکٹ آسٹریلیا میلبورن رینیگیڈز میلبورن سٹارز پاکستانی کھلاڑیوں پاکستانی کھلاڑی بی بی ایل میں کھلاڑیوں کے بگ بیش لیگ میں شرکت کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔