حکومت پنجاب نے معدنیات و کان کنی کے لئے نیا جامع قانونی نظام متعارف کرادیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
حکومت پنجاب شعبہ معدنیات میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے سر گرم ہوگئی اور معدنیات و کان کنی کے لئے نیا جامع قانونی نظام متعارف کرادیا۔
دی پنجاب مائنز اینڈ منرلز بل 2025 پنجاب اسمبلی سے منظور کرلیا گیا، بل حالیہ اجلاس میں منظور ہوا، بل کے تحت کان کنی کا جدید لائسینسنگ نظام متعارف کروایا جائے گا، بل کے تحت لائیسنسنگ اتھارٹی تشکیل دی جائے گی۔
متن کے مطابق اتھارٹی کے پاس نئے کان کنی لائسنس کا اجراء، لائسنس معطل و ختم کرنے کا اختیار ہو گا، بل کے تحت کان کنی و معدنیات فورس تشکیل دی جائے گی، غیر قانونی کان کنی روکنا کان کنی و معدنیات فورس کے ذمے ہو گا، کان کنی و معدنیات فورس کا سینئر افسر ڈی جی ہو گا، ڈی جی اور سینئر افسران کے علاوہ فورس کو یونیفارم پہننا لازم ہو گا۔
فورس کے پاس گرفتاری کرنے کا اختیار ہو گا، بل کے تحت کان کنی و معدنیات پولیس سٹیشن تشکیل پائیں گے، بل کے تحت کان کنی و معدنیات کے معاملات لئے سپیشل کورٹس تشکیل دئیے جائیں گے، سپیشل کورٹ کا فیصلہ سیشن کورٹ میں چیلنج ہو گا۔
متن کے مطابق بل کے تحت ایکسپلوریشن پروموشن ڈویژن تشکیل پائے گا، ایکسپلوریشن پروموشن ڈویژن جیولوجیکل ڈیٹا بیس تیار کرے گا، بل میں بڈنگ کے طریقہ کار، جرمانوں کی شقیں بھی موجود ہیں، بل مظوری کے بعد متعدد مسودہ قانون ختم کر دئیے جائیں گے۔
متن کے مطابق بل کا مقصد سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور قانونی یقین فراہم کرنا ہے، بل کا مقصد قومی و بین الاقوامی معیارات کے مطابق موثر قانونی نظام بنانا ہے، بل کا مقصد پنجاب میں معدنی وسائل کے ضابطے، ترقی و انتظام کے لیے جامع و جدید قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے، کان کنی کا شعبہ اقتصادی ترقی، روزگار اور صنعتی ترقی میں کلیدی معاون ہے۔
ابھرتے مسائل سے نمٹنے، شفافیت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے تازہ قانونی نظام کی ضرورت ہے، بل کا مقصد سائنسی اور ماحولیاتی طور پر ذمہ دار کان کنی کے طریقوں کو فروغ دینا ہے، بل کا مقصد ریگولیٹری نگرانی کو بڑھانا، گرانٹ، تجدید، معطلی، اور ٹائٹل کی منسوخی کے لیے واضح طریقہ کار قائم کرنا ہے۔
متن میں کہا گیا کہ بل کا مقصد مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ کے کردار اور اختیار کو مضبوط بنانا ہے، بل کا مقصد سرمایہ کاروں اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے لائسنسنگ نظام کو ہموار کرنا ہے،بل کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے، بل کی حتمی منظوری کے بعد متعدد موجودہ معدنیات بل منسوخ تصور ہوں گے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کان کنی و معدنیات بل کے تحت کان کنی بل کا مقصد کے مطابق کرنا ہے کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔