صارفین خبردار! گردشی قرض کے خاتمے کیلئے بجلی نرخ بڑھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) مالی سال 25-2024 میں سرکلر ڈیٹ کا حجم 1614 ارب تھا، 734 ارب اضافے کی صورت میں قرضہ 2348 ارب تک پہنچ جائے گا
حکومت نے بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کو ختم کرنے کے لیے نیا پلان تیار کر لیا ہے، جس کے تحت بجلی کی قیمت میں اضافہ کرکے بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
سرکلر ڈیبٹ مینجمنٹ پلان 26-2025 کے مطابق، رواں مالی سال میں گردشی قرضے میں 734 ارب روپے اضافے کا خدشہ ہے، جس سے مجموعی قرضہ 2348 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو بھی بجلی ٹیرف میں اضافے کی یقین دہانی کرادی گئی ہے، مالی سال 25-2024 میں سرکلر ڈیٹ کا حجم 1614 ارب تھا، 734 ارب اضافے کی صورت میں قرضہ 2348 ارب تک پہنچ جائے گا۔
دستاویز کے مطابق بجلی چوری روک کر بلوں کی وصولی میں بہتری لائی جائے گی، پاور سیکٹر میں سبسڈیز اور ڈسکوز کے نقصانات میں کمی لانے کا منصوبہ بھی بنا لیا گیاہے جبکہ گردشی قرض کی بڑی وجہ کم ریکوریز، پیداواری لاگت میں اضافہ قرار دیا گیا۔
گردشی قرضے کے خاتمے کیلئے پیداواری لاگت میں کمی کیلئے مہنگے پلانٹس بند کئے جائیں گے، کے الیکٹرک، جینکوز کے بقایاجات بروقت وصول کئے جائیں گے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو نقصانات میں واضح کمی لانے کی ہدایت کر دی گئی ہے ۔
پاور ڈویژن کے مطابق گردشی قرضے کو مکمل طور پر قابو میں رکھا جائے گا، ڈسکوز آپریشنل کارکردگی اوربلوں کی ریکوریز بہتر بنائیں۔ پاور ڈویژن بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی سخت نگرانی کرے گی۔
اصلاحات اور اہداف کے حصول کیلئے ضروری پالیسی سپورٹ دی جائے گی، پاور پروڈیوسرز کو واجبات کی بروقت ادائیگی بھی ڈیٹ مینجمنٹ پلان کا حصہ ہے، سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان 26-2025 آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔