اسلام آباد:

عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے حکومت کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ توسیعی سہولت پروگرام (سی ایف ایف)کے تحت دوسرے جائزے میں زیادہ تر اہداف پورے کرلیے گئے تاہم گورننس اور کرپشن رپورٹ تاخیر سے شائع ہوئی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ٹیکس ہدف بھی پورا نہیں ہوا۔

آئی ایم ایف کی جانب سے جاری حکومت کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق پاکستان نےقرض پروگرام کے تحت دوسرے جائزے میں زیادہ تر اہداف پورے کر لیے ہیں تاہم گورننس اور کرپشن رپورٹ تاخیر سے شائع ہوئی اور ایف بی آر کا خالص ٹیکس ہدف بھی حاصل ہونے سے رہ گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 13 میں سے 8 اسٹرکچرل اصلاحات مکمل ہوئیں، زرعی آمدن پر ٹیکس اور بجٹ اصلاحات کامیابی سے لاگو کیا گیا، سرکاری افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کے قانون میں ترمیم کی گئی ہے، بجلی کے شعبے میں ادائیگیوں کا ہدف پورا کیا گیا۔

آئی ایم ایف نے بتایا کہ خصوصی اقتصادی زونز ختم کرنے کا منصوبہ بعد میں مکمل ہوا، چند ریاستی اداروں کے قوانین میں ترمیم مؤخر کی گئی، چینی کی درآمد پر استثنیٰ کی وجہ سے ایک شرط پوری نہ ہو سکی، کھاد اور کیڑے مار ادویات پر ایکسائز ڈیوٹی کا ہدف پورا نہیں ہوا، 7 میں سے 6 دیگر اہم اہداف مکمل حاصل کیے گئے۔

حکومتی کارکردگی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بی آئی ایس پی کا ایک ہدف معمولی فرق سے رہ گیا، بی آئی ایس پی کے بنیادی پروگراموں پر زیادہ فنڈز خرچ ہوئے، اسٹیٹ بینک کے ذخائر اور ٹیکس ریٹرنز کے ہدف پورے ہوئے، اسٹیٹ بینک کے ڈومیسٹک اثاثوں کا ہدف بھی مکمل ہوا اور حکومتی پرائمری خسارہ مقررہ حد میں رہا۔

آئی ایم ایف کے مطابق حکومتی ضمانتیں آئی ایم ایف حد کے اندر رہیں، حکومت نے بعض رہ جانے والے اہداف پر چھوٹ مانگی ہے، صحت اور تعلیم کے اخراجات کا ہدف پورا نہیں ہو سکا۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی معاشی کارکردگی میں بہتری آئی ہے، مشکل حالات اور سیلاب کے باوجود معیشت مستحکم ہوئی، مالی کارکردگی مضبوط، پرائمری سرپلس 1.

3 فیصد رہا، پرائمری سرپلس آئی ایم ایف ہدف کے مطابق حاصل کیا گیا جبکہ سیلاب کے بعد خوراک کی قیمتوں سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق مہنگائی کا دباؤ عارضی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، ایک سال میں ذخائر 9.4 ارب سے بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر ہوگئے ہیں اور آئندہ برسوں میں ذخائر مزید بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

اسی طرح پاکستان نے 14 سال بعد پہلا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا، مضبوط پالیسیوں نے پاکستان کو حالیہ جھٹکوں سے نکالنے میں مدد دی اور رواں سال معاشی ترقی توقع سے بہتر رہی، حالیہ سیلاب نے اگلے سال کی معاشی رفتار کو کچھ کم کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل بہتری جاری ہے، سیلاب کے باوجود مہنگائی قابو میں رہی، ای ایف ایف پروگرام درست سمت میں جاری ہے، آر ایس ایف پروگرام بھی مقررہ راستے پر ہے، پہلے ریویو کے اہداف پورے ہوئے اور پاکستان کو دونوں پروگرامز کی مد میں 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کر دی گئی۔

بتایا گیا کہ سیلاب کے بعد اصلاحات اور پالیسی تسلسل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، مالی سال26-2025 کا پرائمری سرپلس ہدف قابل حصول قرار دیا گیا ہے اور محصولات بڑھانے اور قرض کم کرنے کی اصلاحات جاری ہیں۔

آئی ایم ایف نے مہنگائی کنٹرول میں رکھنےکے لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے، شاکس جذب کرنے کے لیے ایکسچینج ریٹ میں لچک بھی ضروری قرار دی گئی ہے، توانائی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے پاور سیکٹر کی بہتری میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم پاورسیکٹر کو مستحکم کرنے کے لیےمزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ میں سرکاری اداروں میں گورننس اور سرمایہ کاری ماحول کی بہتری بھی اہم قرار دے دی گئی ہے، تجارتی اور سرمایہ کاری اصلاحات پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہیں اور آر ایس ایف اصلاحات سے سیلابی خطرات اور پانی کے انتظام میں بہتری آئے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں بتایا گیا آئی ایم ایف رپورٹ میں کے مطابق سیلاب کے گیا ہے گئی ہے کا ہدف کے لیے

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے