افشاں قریشی نے اپنی خوبصورت محبت کی کہانی سنادی
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
معروف سینئر اداکارہ اور فیصل قریشی کی والدہ افشاں قریشی نے اپنے شوہر سے جڑی خوبصورت محبت کی کہانی سنادی۔
افشاں قریشی چار دہائیوں سے شوبز انڈسٹری میں اپنی شاندار اداکاری سے پہچانی جاتی ہیں۔ وہ نجی ٹی وی کے پروگرام کی مہمان بنیں جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے یادگار لمحات کا ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ میں فیصل کے پاپا سے بےحد محبت کرتی تھی، ایک موقع پر میں نے ایک فلم سائن کی لیکن شوٹنگ پر جانے کے بجائے کراچی واپس آ گئی تاکہ ان سے ملاقات کر سکوں، جب فلم کے ڈائریکٹر مجھے ڈھونڈتے ہوئے گھر پہنچے تو میں بستر کے نیچے چھپ گئی۔
افشاں قریشی نے مزید بتایا کہ ’میری ملاقات فیصل قریشی کے والد سے ایک فلم کے سیٹ پر ہوئی تھی، ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے اور یہ ایک خاموش وعدہ تھا، میرے شوہر نے کبھی براہِ راست اظہارِ محبت نہیں کیا بلکہ سیدھا والدین کے پاس رشتہ لے کر پہنچ گئے تاہم میرے والدین نے ابتدا میں انکار کردیا تھا کیونکہ وہ اپنے بچوں کی شادیاں صرف میمن خاندانوں میں کرتے تھے، میں ایک ماہ تک روتی رہی، بالآخر میری والدہ نے والد کو راضی کیا اور شادی طے پا گئی۔‘
انہوں نے اپنی زندگی کے مشکل ترین دور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ میں صرف 25 سال کی تھی جب میرے شوہر کا انتقال ہوگیا، جبکہ فیصل قریشی اس وقت صرف 8 سال کے تھے۔
افشاں قریشی نے کہا کہ میں نے جوانی میں بیوگی کا صدمہ برداشت کیا، مگر ہمیشہ اللّٰہ کی رضا پر راضی رہی اور اپنی زندگی اکیلے ہی گزاری۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افشاں قریشی نے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔