پشاور ریلوے نظام بہتر بناکر سیاحت، تجارت بڑھائی جا سکتی: فیصل کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبر پی کے فیصل کریم کنڈی سے پاکستان میں تعینات جرمنی کی سفیر اینا لیپل نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات کے فروغ، خیبر پی کے میں تجارت، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر کاروباری شعبے میں باہمی روابط کو مزید مستحکم بنانے، نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے، ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے، جرمنی کی جانب سے خیبر پی کے میں جاری عوامی فلاحی منصوبوں، صوبہ میں ریلوے نظام کی بحالی کیلئے پاک جرمن مشترکہ منصوبہ شروع کرنے سے متعلق گفتگو کی گئی۔ گورنر خیبر پی کے نے کہا کہ صوبہ بالخصوص پشاور میں ریلوے نظام کو بہتر بنا کر سیاحت کے فروغ کیساتھ ایشیائی ملکوں تک تجارت اور سفری سہولیات کو بھی آسان بنایا جا سکتا ہے۔ گورنر نے جرمنی کے تعاون سے صوبے کے نوجوانوں کو جرمن سٹوڈنٹس ایکسچینج پروگرام کے تحت مواقع پیدا کرنے پر زور دیتے کہا کہ بڑی تعداد میں پاکستانی طلباء جرمنی میں تعلیم حاصل کر رہے جو دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں، جن سے جرمن سرمایہ کاروں کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ جرمن سفیر نے نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق گورنر خیبر پی کے کے وژن کو سراہا اور اس ضمن میں جرمن حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خیبر پی کے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔