شوگر ملز مالکان کیلئے اہم اعلان، پیداوار کی مانیٹرنگ اب الیکٹرانک ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
سٹی42: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے چینی کی پیداوار کی نگرانی کے لیے جدید اقدامات اٹھاتے ہوئے شوگر ملز میں الیکٹرانک مانیٹرنگ کا نظام متعارف کروا دیا ہے۔ اس نظام کے تحت پیداوار کے ہر مرحلے کی ویڈیو اینالیٹکس کے ذریعے نگرانی کی جائے گی اور کسی بھی شوگر مل کو نگرانی کے بغیر آپریشن کی اجازت نہیں ہوگی۔
تمام شوگر ملز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جدید ہارڈویئر جی پی یو اور سی پی یو کے ساتھ مانیٹرنگ سسٹم نصب کریں، جسے ڈسٹ پروف ماحول میں حفاظتی الماریوں میں رکھا جائے گا۔ نصب شدہ نظام کو ویڈیو سرویلنس اور ویڈیو اینالیٹکس سے منسلک کرنا لازمی ہوگا۔
فضائی آلودگی کا وبال، لاہور دنیا کے آلودہ شہروں میں پھر سرفہرست
اس مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے چینی کی پیداوار، سٹاک اور ٹیکس کمپلائنس کی نگرانی ممکن ہوگی۔ پہلے سے نصب ہارڈویئر کو بھی بورڈ کی منظوری سے نئے نظام سے منسلک کرنا ہوگا۔ پیداواری عمل سے فرار یا نگرانی سے انحراف کی صورت میں شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔