ٹیکس چوری میں ملوث کمپنیوں کیخلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی 3کو ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے اور مجرمان کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت
شہباز شریف کی زیر صدارت اصلاحات جائزہ اجلاس، وزیر خزانہ،چیئرمین ایف بی آر ودیگر وفاقی وزرا کی شرکت
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث کمپنیوں، اداروں اور افراد کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر میں اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر وفاقی وزرا، چیٔرمین ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیراعظم کو واشنگٹن میں منعقدہ سالانہ عالمی بینک کانفرنس میں ایف بی آر کی شمولیت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا، اس دوران وزیراعظم کو ایف بی آر بالخصوص پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) میں جاری اصلاحات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پرال کی موجودہ نافذ العمل اصلاحات میں آڈٹ والٹ، ڈیٹابیس پروٹیکشن وال، سیکیورٹی آپریشن سینٹر، ڈیٹابیس کی مستقل نگرانی اور دیگر متعدد محفوظ ڈیجیٹل اقدامات شامل ہیں۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ موجودہ ڈیجیٹل نظام میں صلاحیت موجود ہے کہ معلومات میں تبدیلی سے صارف کا آئی پی ایڈریس بھی سسٹم میں درج ہو جائے گا اور ٹیکس فراڈ ممکن نہیں ہو گا۔اجلاس میں سیلز ٹیکس فراڈ کے حوالے سے تشکیل کردہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے پرال کے متروک نظام کی وجہ سے کیے گئے سیلز ٹیکس فراڈ کے حوالے سے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کی۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پرال میں سیلز ٹیکس فراڈ متروک ڈیجیٹل نظام، نظام میں نگرانی کی عدم موجودگی اور پرال کی ڈیٹابیس محفوظ نہ ہونے کی وجہ سے ہوا تھا، نظام کی خامیوں کے تدارک کے لیے متعدد اصلاحات نافذ کردی گئی ہیں جو کہ مجموعی اصلاحات کا حصہ ہیں۔واضح رہے کہ وزیراعظم نے 2018 سے شروع ہونے والے اس سیلز ٹیکس فراڈ کا نوٹس لیا تھا اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی تھی، وزیراعظم نے ماضی میں سیلز ٹیکس میں کیے گئے فراڈ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ پرال کے نظام کا بین الاقوامی کنسلٹینسی فرم سے فرانزک آڈٹ کروایا جائے۔وزیراعظم نے سیلز ٹیکس فراڈ کرنے والے اداروں، کمپنیوں اور افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی 3 ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرے، وزیراعظم نے آئندہ تحقیقاتی رپورٹ میں شناخت ہونے والے مجرمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت بھی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سیلز ٹیکس فراڈ وزیراعظم کو کے حوالے سے ایف بی ا ر
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔