قطری وزیراعظم نے فلسطینی گروہ کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ذمہ دار قرار دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے ایک فلسطینی گروہ کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا، جس کا تعلق جنوبی غزہ کے رفح علاقے میں اسرائیلی فوجی کی ہلاکت سے بتایا گیا۔
نیویارک میں کونسل آن فارن ریلیشنز کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے قطری وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی فوج پر حملہ بنیادی طور پر فلسطینی فریق کی جانب سے ایک خلاف ورزی تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حماس نے اعلان کیا ہے کہ ان کا اس گروہ سے کوئی تعلق نہیں، لیکن اس بات کی تصدیق ابھی نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ 28 اکتوبر کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حماس پر امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے غزہ میں حملے کا حکم دیا تھا۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 104 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ ان کے حملوں کا ہدف حماس کے سینیئر جنگجو تھے، اور بعد میں بدھ کی دوپہر سے دوبارہ جنگ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا۔
قطری وزیراعظم نے کہا کہ وہ دونوں فریقین کے ساتھ سرگرمی سے رابطے میں ہیں تاکہ جنگ بندی برقرار رہے، اور امریکہ کی شمولیت اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رفح میں ہونے والا واقعہ ایک واضح خلاف ورزی تھا، اور حماس کی جانب سے لاشوں کی منتقلی میں تاخیر پر بھی بات ہوئی، جس پر واضح طور پر کہا گیا کہ یہ معاہدے کا حصہ ہے اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
شیخ محمد نے اس واقعے کو انتہائی مایوس کن اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری ردعمل دے رہے ہیں اور امریکہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک تین جنگ بندی معاہدے طے پائے ہیں، اور امید ہے کہ موجودہ معاہدہ بھی برقرار رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خلاف ورزی
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔