Jasarat News:
2026-06-03@02:18:09 GMT

بدل دو نظام اجتماع عام

اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

قیام پاکستان سے لیکر اب تک ہم سنتے اور پڑھتے آرہے ہیں کہ ملک نازک دور سے گزرہا ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ وطن عزیز کو اس نازک صورتحال پر کس نے پہنچایا ہے اور اس کو کون اور کیسے اس صورتحال سے نکال سکتا ہے۔ بدقسمتی 1947 سے اب تک حکومتیں، چہرے پارٹیاں اور جھنڈے تو بدلتے رہے مگر ملک و قوم کے حالات بدلنے تو کجا مزید بدتر ہوتے گئے۔ کہتے ہیں کہ جب پاکستان بنا تو ایک ڈالر ایک روپے کا تھا مگر اب تین سو کے قریب ہے۔ مثالی امن تھا مگر اب عوام دن ہو یا رات غیر محفوظ ہیں۔ یہاں تک کے خود حکومتی نمائندے غیر محفوظ ہیں۔ کراچی میں صوبائی مشیر اور نوشہرو فیروز میں حکومتی ایم این اے کے گھر سے کروڑوں روپے کی ڈکیتی بدامنی کی بدترین مثال ہے ۔ پہلے کراچی سمیت بڑے بڑے شہروں کی سڑکوں کو پانی سے دھویا جاتا تھا، سڑکیں اور شہر صاف ستھرے اور سڑکیں کشادہ ہوتی تھیں مگر اب سڑکوں پر گڑھے اور شہر گندگی کے ڈھیر اور موئن جو دڑو کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ اب ای چالان نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ ظلم وناانصافی کی انتہا نہیں کہ سڑکیںکچے سے بھی بدتر اور چالان دبئی اور عالمی معیار کے کاٹے جارہے ہیں ۔ صوبہ سندھ کے عوام سب سے زیادہ اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔ مگر اس کے باوجود پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول زرداری کہتے ہیں کہ ہمارا مقابلہ کسی صوبہ سے نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک سے ہے!

اس صورتحال کے پیش نظر جہاں ہر طرف مایوسی و ناامیدی ہو وہاں پر امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے عوام کو حوصلہ خاص طور نوجوانوں کو امید دلانے کے لیے 21 نومبر کو تاریخی مقام مینار پاکستان کے سائے تلے ’’بدل دو نظام‘‘ کے نعرے کے تحت اجتماع عام کے انعقاد کا اعلان کیا۔ جس کے لیے مرکزی نائب امیر محترم لیاقت بلوچ کو ناظم اجتماع مقرر کیا جو دن رات اپنے مہمانوں شرکاء اجتماع کے لیے بہتر سے بہتر انتظامات کرنے میں مصروف ہیں۔ 1941 میں قائم ہونے والی جماعت اسلامی کے اجتماع عام ہوتے رہے ہیں، 21 تا 23 نومبر لاہور میں ہونے والا اجتماع عام 16 واں اجتماع عام ہوگا۔ ناظم اجتماع محترم لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ اجتماع عام محض ایک اجتماع، جلسہ عام اور پاور شو نہیں ہوتا۔ اجتماع عام کا اصل مقصد دعوت کو عام کرنا ہے، اجتماع قرآن و سنت کے پیغام اور جذبوں سے امت مسلمہ تک پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اجتماع عام کے لیے 50 شعبے اور 14 نائب ناظمین مقرر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ملک بھر کے ذمے داران کو ہدایت کی ہے کہ ممبر سازی مہم کے دوران بنائے گئے سوا تین لاکھ ممبروں سے رابطے مضبوط کیے جائیں اور انہیں لاہور کے اجتماع عام میں شریک کرایا جائے۔ یاد رہے کہ دو ماہ قبل تک جماعت اسلامی کے کل مرد ارکان کی تعداد 39620، خواتین ارکان 7383 جبکہ اس کے علاوہ امیدوار ارکان، کارکنان، اقلیتی ویوتھ ممبران بڑی تعداد میں شامل ہیں۔

کیا یہ ایک حقیقت نہیں ہے کہ گزشتہ 78 سال سے وطن عزیز پر قابض کرپٹ حکمرانوں، اشرافیہ، جرنیلوں اور بیوروکریسی نے عام پاکستانی کو ظلم، ناانصافی، جعلی انتخابات اور طبقاتی نظام کے بوجھ تلے دبا کر رکھا ہوا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس فرسودہ طبقاتی نظام کو بدلا جائے۔ جماعت ِ اسلامی پاکستان نا صرف ملک گیر دیانتدار قیادت کی حامل واحد حقیقی جمہوری پارٹی کا درجہ رکھتی ہے، بلکہ شفاف سیاست کی ایسی علامت ہے جو کلٹ اور شخصیات کی سیاست کے بجائے منصفانہ نظام، ایک نصاب اور ایک زبان پر مبنی پاکستان کی جدوجہد کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں خیبر سے کراچی تک کے لاکھوں مردو خواتین اور نوجوانوں کو تعمیری انقلاب کے لیے اکٹھا کرنے کے لیے لاہور میں جماعت اسلامی مینار پاکستان پر ’’بدل دو نظام‘‘ اجتماع عام کا انعقاد کر کے ایک زبردست عوامی تحریک کا آغاز کر رہی ہے۔ کرپٹ نظام اور کرپٹ قیادت کی وجہ سے ملک اس وقت سیاسی، معاشی اور اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بدامنی اور بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان بہت مایوس ہیں اور عام آدمی اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے بھی سخت پریشان ہے۔ اس وقت کسانوں، خواتین، محنت کشوں اور سرکاری ملازمین سمیت ہر طبقہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے میدان میں نکل آیا ہے۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ چہروں سے نہیں، نظام کی تبدیلی سے ہی عام لوگوں کی زندگیاں بدل سکتی ہیں، مسائل حل ہو سکتے ہیں اور ملک ترقی کر سکتا ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنے قیام سے لے کر اب تک ملک میں نظام کی تبدیلی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہی ہے۔ جس میں کرپٹ نظام کی تبدیلی کا مکمل پروگرام دیا جائے گا۔ عوام خاص طورپر نوجوانوں کو چاہیے کہ مایوس ہونے کے بجائے مینار پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں اور نظام کی تبدیلی کو ممکن بنائیں۔ اس لیے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے ہرشہری کو ناانصافی، ظلم اور طبقاتی نظام کو بدلنے کے لیے جماعت اسلامی پاکستان کی اس تحریک کا حصہ بن جانا چاہیے تاکہ اسلامی انقلاب کی منزل قریب سے قریب تر اور عوام کے دکھوں کا مداوا ہوسکے۔

 

مجاہد چنا.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نظام کی تبدیلی جماعت اسلامی رہے ہیں ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی