کیا گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو ہٹایا جارہا ہے؟ نئے گورنر کون ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر رانا ثنااللہ نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو عہدے دے ہٹانے اور آفتاب شیرپاؤ کو صوبے کا نیا گورنر تعینات کرنے کی خبروں کی تردید کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی گونج، پی ٹی آئی کو اس فیصلے سے فائدہ ہوگا یا نقصان؟
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران رانا ثنااللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر میں حکومت گورنرخیبرپختونخوا کی تبدیلی کے بدلے دی جارہی ہے، گورنر کیوں تبدیل ہورہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ اس کو آزاد کشمیر میں ہونے والی ڈیویلپمنٹ سے جوڑنا غلط ہے لیکن اگر پیپلز پارٹی چاہے تو آفتاب شیرپاؤ گورنر بن سکتے ہیں اور خیبرپختونخوا میں گورنر تبدیل ہوسکتا ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ویسے تو آفتاب شیرپاؤ گورنز بننے کے لیے مقابلے میں ہیں لیکن اس وقت ایسی کوئی ڈیویلپمنٹ نہیں ہورہی،آفتاب شیرپاؤ سینیئر سیاستدان ہیں اور خیبرپختونخوا کی سیاست میں ان کی اپنی اہمیت بھی ہے تو اگر وہ کسی صورت میں حکومت کا حصہ بنیں تو اس کا فائدہ ضرور ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی میں گورنر راج کا معاملہ زیرغور نہیں، عمران خان میثاق استحکام پاکستان کی طرف آئیں، رانا ثنااللہ
انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم شہباز شریف نے سمجھا ہے کہ آفتاب شیرپاؤ کسی جگہ معاون ثابت ہوسکتے ہیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے، مسلم لیگ ن سے پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دینے کے لیے بات کی ہے، تحریک عدم اعتماد میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آزاد کشمیر آفتاب شیرپاؤ فیصل کریم کنڈی گورنر خیبرپختونخوا مسلم لیگ ن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا فتاب شیرپاؤ فیصل کریم کنڈی گورنر خیبرپختونخوا مسلم لیگ ن ا فتاب شیرپاؤ رانا ثنااللہ پیپلز پارٹی
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔