گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وزیراعظم بننے کے لیے پارٹی اگلے عام انتخابات کا انتظار کرے گی، کیونکہ وہی ملک کے مستقبل کے وزیراعظم ہوں گے۔
لاہور میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں گھریلو فرنیچر تقسیم کرنے کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار سلیم حیدر نے بتایا کہ پنجاب بھر میں پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور مختلف اضلاع سے لوگ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو جلد فیصل آباد اور سیالکوٹ میں بڑے عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے، جبکہ فیصل آباد سے پارٹی میں نمایاں شمولیت متوقع ہے اور دیگر اضلاع سے بھی کارکن اور رہنما پیپلز پارٹی کا حصہ بنیں گے۔
گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سیاسی نظام کو عدم استحکام سے بچانے کی کوشش کی ہے اور کبھی معاملات کو خراب نہیں کیا۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو کی قیادت میں پارٹی جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے اور وزیراعظم بننے کے لیے آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے حالیہ تین روزہ لاہور دورے سے پنجاب میں مثبت سیاسی پیغام گیا ہے اور جو لوگ پیپلز پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں، ان کے لیے پارٹی کے دروازے کھلے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی بلاول بھٹو ہے اور

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو