پاکستان بار کونسل کی پنجاب کی 11میں سے 8نشستوں پرعاصمہ جہانگیر گروپ کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
پاکستان بار کونسل کی پنجاب کی 11میں سے 8نشستوں پرعاصمہ جہانگیر گروپ کامیاب WhatsAppFacebookTwitter 0 13 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان بارکونسل کیالیکشن میں پنجاب کی 11 میں سے 10 نشستوں کے غیرسرکاری نتائج سامنے آگئے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان بار کونسل کی پنجاب کی 11 میں سے 8 نشستوں پرعاصمہ جہانگیر گروپ کامیاب ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ 2 نشستوں پر حامد خان گروپ کے امیدوار کامیاب ہوئے۔غیر حتمی نتائج کے مطابق حامد خان گروپ کے سلمان اکرم راجہ، شفقت چوہان ممبرپاکستان بار کونسل منتخب ہوئے۔ عاصمہ جہانگیرگروپ کے اعظم نذیرتارڑ، احسن بھون، پیرمسعودچشتی، عامر سعید راں، طاہرناصراللہ وڑائچ، حفیظ الرحمان چوہدری، ثاقب اکرم گوندل اور سید قلب حسن ممبر پاکستان بار کونسل منتخب ہوئے۔کامیاب امیدواروں کا حتمی نتیجہ 22 دسمبرکوجاری کیاجائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کے معروف اسٹنٹ مین سلطان گولڈن نے عالمی ریکارڈ توڑ دیا،وزیراعلی بلوچستان کا 5کروڑ انعام کا اعلان پاکستان کے معروف اسٹنٹ مین سلطان گولڈن نے عالمی ریکارڈ توڑ دیا،وزیراعلی بلوچستان کا 5کروڑ انعام کا اعلان نوازشریف نے ملک میں خدمت کی سیاست کو فروغ دیا،وفاقی وزیر اطلاعات اس وقت ملک میں گلا سڑا نظام چل رہا ہے جو نوجوان کو مایوس کر رہا ہے،حافظ نعیم الرحمان وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ٹرانسپورٹ کے شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ پینتیس ویں نیشنل گیمز کا رنگا رنگ اختتام، فیلڈ مارشل عاصم منیرنے انعامات تقسیم کیے وزیراعظم شہباز شریف سے برطانوی وزیربرائے بین الاقوامی ترقی و افریقہ کی ملاقاتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان بار کونسل کونسل کی پنجاب کی
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔