Jang News:
2026-07-24@03:56:32 GMT

نقصان کو مینج کرنا اس وقت بڑا چیلنج ہے: علی پرویز ملک

اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT

نقصان کو مینج کرنا اس وقت بڑا چیلنج ہے: علی پرویز ملک

وفاقی وزیر علی پرویز ملک—فائل فوٹو

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ میرے لیے نقصان کو مینج کرنا اس وقت بڑا چیلنج ہے۔

’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کے دوران علی پرویز ملک نے کہا کہ گیس کے گھریلو صارفین 1 کروڑ کے قریب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم صارفین پر لیوی میں اضافہ ایک آپشن ہے، ابھی فیصلہ نہیں ہوا، پیٹرولیم لیوی میں اضافے سے غریب طبقے پر بوجھ کم آئے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں گیس کی کھپت کم ہونے کا وزیرِ توانائی بہتر بتا سکتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرض کا مسئلہ حل کرنا ہے، حل بتا دیں، تمام تر کوشش ہے کہ نظام کے پرانے نقصانات ریکور کرائیں۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ 1800 ارب روپے کا ایندھن خرید کر استعمال کر لیا، اس کی ادائیگی کرنی ہے یا نہیں کرنی۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کا شعبہ 800 ایم ایم سی ایف گیس سے 400 پر آ گیا، آگے 200 ایم ایم سی ایف پر چلا جائے گا، پاور کا شعبہ اب گیس کم لے رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیرِ اعظم اور کابینہ سے ہدایت لے کر گیس کے شعبے کا مسئلہ حل کریں گے، سولر سے تقریباً 20 ہزار میگا واٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: علی پرویز ملک وفاقی وزیر نے کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن